Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala June 2014
Al-Risala June 2014

دہشت گردی کا مسئلہ

Urdu · 5 min read

دہشت گردی (terrorism) کیا ہے۔ دہشت گردی اور جنگ (war) کے درمیان بہت مشابہت ہے۔ اِس لیے دہشت گردی کی ایسی تعریف کرنا ضروری ہے جس میں دہشت گردی کو جنگ سے الگ کیا جاسکے۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ جنگ باقاعدہ طور پرقائم شدہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کا نام ہے، اور دہشت گردی اُس مسلّح کارروائی کو کہا جاتا ہے جو غیر ریاستی افراد (non-state actors) کے ذریعے انجام دی گئی ہو۔ ریاست کی طرف سے کیا جانے والا تشدد اپنے حق کا غلط استعمال ہے، اور غیر ریاستی تنظیم کی طرف سے کیا جانے والا تشدد ایک ایسا کام ہے جس کا سرے سے ان کو حق ہی نہیں۔

اِس تعریف (definition)کے مطابق، دہشت گردی اسلام میں سراسر ناجائز ہے۔ کیوں کہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ: الرحیل للإمام (جنگ کا اعلان صرف حاکمِ وقت کا ایک خصوصی حق ہے)۔ غیر ریاستی افراد کو اگر کسی فرد یا کسی ادارے سے شکایت ہے تو اُن کے لیے صرف ایک ہی آپشن (option) ہے، یہ کہ وہ پُرامن انداز کے پابند رہتے ہوئے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کریں۔ غیر ریاستی افراد کو کسی بھی عذر (excuse) کی بنا پر مسلح کارروائی کی اجازت نہیں۔ غیر ریاستی افراد یا ادارہ اگر کسی معاملے میں مسلح کارروائی کا طریقہ اختیار کریں تو اِسی کا نام دہشت گردی ہے۔

غیر ریاستی افراد اگر اپنی مسلح کارروائی کو جہاد کا نام دیں تو جہاد کا نام دینے سے اُن کا عمل جہاد نہیں بن جائے گا، اِس کے باوجود وہ فساد قرار پائے گا۔ اللہ کی نظر میں ایسے لوگ مفسد قرار پائیں گے، نہ کہ مصلح۔ایک قائم شدہ حکومت اسلام کے مطابق، نیز عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول کے مطابق، جنگ کرنے کا حق رکھتی ہے۔ لیکن یہ حق ایک لازمی شرط کے ساتھ مشروط ہے، وہ یہ کہ یہ جنگ صرف دفاع (defence) کے لیے ہونا چاہئے، یعنی اُس وقت جب کہ ایک ملک دوسرے ملک کے اوپر جارحیت کرے۔ اِس قسم کی جارحیت کے خلاف جنگ کرنا ہر حکومت کا حق ہے، بشرطیکہ یہ ثابت ہوجائے کہ جارح ملک نے بالقصد جارحانہ کارروائی کا معاملہ کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام کے مطابق، ظلم یا دشمنی کے حوالے سے ایک قائم شدہ حکومت بھی کسی کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتی۔ اگر کسی حکومت کو یہ شکایت ہو کہ اس کے خلاف کسی کی طرف سے دشمنی کا عمل کیاجارہا ہے، تب بھی اس کو پرامن حدود میں رہ کر اپنی جوابی تدبیر کرنا چاہیے۔ ظلم یا دشمنی کا حوالہ کسی حکومت کو یہ جواز فراہم نہیںکرتا کہ وہ ا س کے خلاف مسلح کارروائی شروع کردے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41: 34 (یعنی بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہیں۔ تم برائی کو اُس چیز سے دفع کرو جو زیادہ بہتر ہے، تو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمھارے دمیان عداوت ہے، گویا وہ ایک سرگرم دوست بن گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنی اور دوستی دونوں اضافی الفاظ ہیں۔ خالق نے ہر انسان کو فطرتِ سلیم پر پیدا کیا ہے۔ بظاہر اگر کوئی شخض ظلم یا دشمنی کرتا ہوا نظر آئے تو اس کو بھی بالقوۃ دوست (potential friend) کے روپ میں دیکھنا چاہیے۔ اپنی طرف مثبت روش کے ذریعے یہ کوشش کرنا چاہیے کہ بالقوۃ دوست آپ کا بالفعل دوست (actual friend) بن جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی ایک آیت اِن الفاظ میں آئی ہے: الصلح خیر (4:128 (یعنی مصالحت کا طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ اِسی طرح حدیثِ رسول میں آیا ہے کہ: إن اللہ یعطی علی الرفق، ما لا یعطی علی العُنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث:2593 ) یعنی اللہ نرمی پر وہ دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔

quoted sourceQuoted from another author or source

’صلح‘ اور ’رفق‘ کو ایک لفظ میں امن (peace) کہہ سکتے ہیں۔ اسلام میں امن پر بہت زور دیاگیا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر حال میں امن کا طریقہ اختیار کرو، خواہ امن قائم کرنے کے لیے تم کو یک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا پڑے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں صلح حدیبیہ اِسی قسم کی تدبیرِ امن کی ایک واضح مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔اسلام میں امن کو اتنی زیادہ اہمیت کیوں دی گئی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کی حیثیت سماجی اعتبار سے، خیرِ اعلیٰ (summom bonum) کی ہے۔

اِس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کام کو انجام دینے کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے، حتی کہ پر امن حالات کے بغیر نماز اور روزہ جیسی چیزیں بھی حسن وخوبی کے ساتھ انجام نہیں دی جاسکتیں۔ دعوت اور اصلاح، اسلام کا اہم فریضہ ہے، مگر دعوت اور اصلاح کا کام موثر طورپر صرف اُس وقت انجام پاسکتاہے، جب کہ حالات معتدل ہوں اور فریقین کے درمیان پُرامن فضا پائی جاتی ہو۔

اِس سے معلوم ہوا کہ قانونِ فطرت کے مطابق، جنگ سرے سے کوئی آپشن نہیں۔ جنگ کے ذریعے کوئی مثبت نتیجہ حاصل کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ پہلی عالمی جنگ (world war) اور دوسری عالمی جنگ، دونوں تاریخ کی عظیم ترین جنگیں تھیں، مگردونوں جنگیں صرف عالمی تباہی پر ختم ہوئیں۔ اِن جنگوں سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلح تصادم (armed conflict) ہر حال میں بربادی کا ذریعہ ہے۔ خواہ یہ مسلح تصادم ریاست کے ذریعے انجام پایا ہو یا کسی غیر ریاستی تنظیم (NGO) کے ذریعے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content