ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الرجل لیعمل عمل أہل الجنة فیما یبدو للناس، وہو من أہل النار- وإن الرجل لیعمل عمل أہل النار فیما یبدوا للناس، وہو من أہل الجنة (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4202) یعنی ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جنت کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے- اور ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جہنم کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے-
اِس حدیث میں فیما یبدو للناس کا لفظ بہت اہم ہے- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص بظاہر (face vlue)پر کچھ اور ہوتا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے، وہ کچھ اور ہوتا ہے- یہاں ’فیما یبدو للناس‘ کے مقابلے میں، ’فیما یبدو للہ‘ کا لفظ محذوف ہے- دنیا کی زندگی میں ’فیما یبدو للناس‘ کے اعتبار سے، آدمی بظاہر کچھ اور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن آخرت میں اس کا معاملہ ’فیما یبدو للہ‘ کے اعتبار سے ہوگا- یہ بات صالح انسان کی نسبت سے بھی ہے اور غیر صالح انسان کی نسبت سے بھی-
تاہم یہ معاملہ دنیا کی زندگی میں بھی کسی نہ کسی موقع پر کھل جاتا ہے- د ونوں قسم کے انسانوں کی زندگی میں آخر کار کوئی ایسا شاکنگ واقعہ (shocking event) پیش آتا ہے جس کے بعد اندر کی شخصیت کھل کر باہر آجاتی ہے- یہ اللہ کے قانون کے تحت ہوتا ہے- مثلاً قدیم مکہ میں حمزہ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے، مگر ایک واقعے نے ان کو ہلا دیا اور انھوں نے اعلان کردیا کہ: دینی دین محمد (میرا دین وہی ہے جو محمد کا دین ہے)- اِسی طرح قدیم مدینہ میں ایک شخص عبد اللہ بن اُبی تھا- وہ بظاہر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوگیا تھا، لیکن مدینہ میں ایک واقعہ پیش آیا جس کے بعد اس کا داخلی نفاق نمایاں ہوگا اور وہ اسلام سے خارج قرار پایا- یہ واقعہ ہر انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، کسی بھی انسان کا اِس معاملے میں کوئی استثنا (exception)نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔