قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ(30:41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے، تاکہ اللہ اُن کو مزا چکھائے اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں-
دنیا میں جو فساد یا کرپشن (corruption) پایا جاتا ہے، وہ تخلیق کا حصہ نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom)کا حصہ ہے- موجودہ زمانے میں فضائی آلودگی (air pollution) اور آبی آلودگی (water pollution)کا مسئلہ اپنی آخری حد تک بڑھ گیا ہے- یہ آلودگی تخلیق کے آغاز میں موجود نہ تھی، حتی کہ جدید صنعتی انقلاب سے پہلے وہ بہت کم پائی جاتی تھی- مگر جدید صنعتی انقلاب کے بعد آلودگی کا مسئلہ انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے-
تاکہ اللہ ان کو مزا چکھائے اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ بازآئیں — اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی فساد کی صورت میں جو مسئلہ اِس دنیا میں پیش آتا ہے، اُس کی حیثیت ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کی ہے- وہ اِس لیے ہے تاکہ انسان سوچے، تاکہ انسان مصنوعاتِ خداوندی اور مصنوعاتِ انسانی کا تقابل کرکے یہ دریافت کرے کہ اللہ کی قدرت کتنی زیادہ ہے اور اس کے مقابلے میں انسان کا عجز کتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے- اللہ کی مصنوعات میں کہیں کوئی نقص (67:3) نہیں، جب کہ انسان کی مصنوعات نقائص سے بھری ہوئی ہیں-
یہ دریافت ایمان باللہ کا دروازہ ہے- آدمی جتنا زیادہ اِس حقیقت کو دریافت کرے گا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی معرفت حاصل کرے گا- عجزِ انسانی کی دریافت معرفتِ الہی کی دریافت کا آغاز ہے- جو انسان عجز کی دریافت سے محروم رہے، وہ معرفتِ الہی کی دریافت سے بھی محروم رہے گا- عجز کے سوا کوئی دروازہ نہیں جس کے ذریعے آدمی معرفت کی دنیا میں داخل ہوسکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔