قرآن کی سورہ التحریم میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ اللہ سے توبہ نصوح کرو اور توبہ نصوح تمھارے لیے جنت میں داخلے کا سبب بنے گی (66:8)- توبۂ نصوح سے مراد مخلصانہ توبہ (sincere repentance) ہے- توبہ نصوح کیا ہے، اس کو قرآن کی سورہ النساء کی دو آیتوں کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے- وہ آیتیں یہ ہیں: اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰۗىِٕکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ ۭ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِــیْمًا حَکِـیْمًا وَلَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّـیِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَھُمْ کُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــیْمًا (4:17-18) ۔
قرآن کی اِن آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کی دو قسمیں ہیں— ایک، مقبول توبہ اور دوسری، غیر مقبول توبہ- مقبول توبہ وہ ہے جو حقیقی احساسِ خطا کے بعد پیدا ہو اور جو ایک ایسے نئے اور پُر عزم فیصلے کے ہم معنی ہو جس کو آدمی نے اپنے دل ودماغ کی پوری طاقت کے ساتھ کیا ہو- اِس کے برعکس، غیر مقبول توبہ وہ ہے جو کسی حقیقی فیصلے کے ہم معنی نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت صرف لِپ سروس (lip service) کی ہو-
توبۂ نصوح کیا ہے، اس کی مزید وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن اللہ یقبل توبة العبد ما لم یغرغر(سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3537) یعنی اللہ غرغرہ پیش آنے تک بندے کی توبہ قبول کرتاہے-
جب موت کا وقت قریب آتا ہے اور انسان محسوس کرتاہے کہ اب اس کے لیے زندگی کی مزید مہلت باقی نہیں رہی، اُس وقت ایک صاحبِ فکر انسان کے اندر زبردست بھونچال آجاتا ہے- اس کی وہ حالت ہوجاتی ہے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے- اُس وقت اس کو شدید طورپر یہ احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی عمر ضائع کردی- اس کو اپنا مستقبل بالکل تاریک دکھائی دینے لگتا ہے- کسی انسان پر اگر یہ زلزلہ خیز حالت طاری ہوجائے تو ایک لمحے کے اندر اس کو توبہ نصوح کی توفیق حاصل ہوجائے گی- اس کے گناہ اس کے اعمال نامے سے اچانک ڈلیٹ (delete) ہوجائیں گے-
یہی وہ حالت ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ (الجامع الصغیر للسیوطی، رقم الحدیث: 3387) یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا تھا- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مومن حقیقی توبہ کرے تو اللہ تعالی عین اُسی وقت اس کے گناہوں کو اس کے اعمال نامے سے حذف کردے گا- ایک گناہ گار شخصیت اچانک ایک بے خطا شخصیت کی صورت اختیار کرلے گی-
توبہ کا معاملہ سادہ معنوں میں صرف خطا اور عفوِ خطا کا معاملہ نہیں ہے، اس کی اہمیت اس سے زیادہ ہے- توبہ ایک نفسیاتی عمل (psychological process) ہے، جس کے ذریعے ایک انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ مسلسل اپنی شخصیت کی تعمیر جاری رکھے، یہاں تک کہ وہ پورے معنوں میں مزکی شخصیت (purified personality) بن جائے-
انسان کو سب سے زیادہ جو چیز جھنجھوڑتی ہے، وہ خطاکاری کا احساس ہے، نہ کہ معصومیت کا احساس- معصومیت کے احساس سے آدمی کے اندر ٹھہراؤ آتا ہے، جب کہ خطاری کا احساس آدمی کے اندر ایک ذہنی بھونچال پیدا کردیتا ہے- یہی وہ بھونچال ہے جو آدمی کے اندر چھپے ہوئے پوٹنشیل (potential)کو جگاتا ہے- وہ شدت کے ساتھ آدمی کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا کردیتا ہے- اِس لیے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کو ایسا انسان پسند ہے جو غلطی کرے اور معافی مانگے (خیر الخطائین التوابون)- کسی شخص کے اندر اِس نفسیاتی اصلاح کے جاری ہونے ہی کا شرعی نام توبہ نصوح ہے- توبہ نصوح اپنی حقیقت کے اعتبار سے محض کچھ الفاظ کی ادائیگی کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک نفسیاتی بھونچال کا نام ہے- ایک ایسا نفسیاتی بھونچال کہ جب وہ کسی انسان کے اندر آتا ہے تو اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتاہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔