Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala June 2014
Al-Risala June 2014

لائف سپورٹ سسٹم

Urdu · 1 min read

قرآن کی سورہ الاعراف کی ایک آیت یہ ہے : وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ ۭقَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (7:10) یعنی ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’معایش‘ کا لفظ ’معیشة‘ کی جمع ہے- قرآن کی اِس آیت میں معایش سے مراد اسبابِ معیشت ہیں، یعنی کھانا اور پینا اور دوسری وہ تمام چیزیں جن پر انسانی زندگی کا مدار ہو- مفسر القرطبی نے معایش کی وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے: ما یُتعیَّش بہ من الطعم والمشرب وماتکون بہ الحیاة (تفسیر القرطبی: 7/167)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسباب معیشت سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے-ایسے اسباب جو انسان جیسی مخلوق کی بقا کے لیے ضروری ہیں، وہ صرف سیارہ زمین پر پائے جاتے ہیں- وسیع کائنات میں کسی دوسرے مقام پر یہ اسباب ِ حیات موجود نہیں-

لائف سپورٹ سسٹم انسان کے لیے ایک استثنائی عطیہ ہے، ایسا عطیہ جو ساری کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں- لائف سپورٹ سسٹم میں بے شمار آئٹم ہیں- ان میں سے کوئی بھی آئٹم انسان خود سے پیدا نہیں کرسکتا- یہ پورا نظام اللہ کی طرف سے انسان کے لیے یک طرفہ عطیہ کی حیثیت رکھتا ہے- یہ عطیہ اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان سے اس کے بارے میں یقیناً سوال کیا جائےکہ اس نے اِس عطیے کا حق ادا کیا یا نہیں-

یہی مطلب ہے قرآن کی اِس آیت کا: ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (102:8) یعنی پھر اُس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں یقیناً پوچھا جائے گا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Then on the Day you shall be questioned about the favours.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content