قرآن کی سورہ الاعراف کی ایک آیت یہ ہے : وَلَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ ۭقَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ (7:10) یعنی ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو-
’معایش‘ کا لفظ ’معیشة‘ کی جمع ہے- قرآن کی اِس آیت میں معایش سے مراد اسبابِ معیشت ہیں، یعنی کھانا اور پینا اور دوسری وہ تمام چیزیں جن پر انسانی زندگی کا مدار ہو- مفسر القرطبی نے معایش کی وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے: ما یُتعیَّش بہ من الطعم والمشرب وماتکون بہ الحیاة (تفسیر القرطبی: 7/167)
اسباب معیشت سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے-ایسے اسباب جو انسان جیسی مخلوق کی بقا کے لیے ضروری ہیں، وہ صرف سیارہ زمین پر پائے جاتے ہیں- وسیع کائنات میں کسی دوسرے مقام پر یہ اسباب ِ حیات موجود نہیں-
لائف سپورٹ سسٹم انسان کے لیے ایک استثنائی عطیہ ہے، ایسا عطیہ جو ساری کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں- لائف سپورٹ سسٹم میں بے شمار آئٹم ہیں- ان میں سے کوئی بھی آئٹم انسان خود سے پیدا نہیں کرسکتا- یہ پورا نظام اللہ کی طرف سے انسان کے لیے یک طرفہ عطیہ کی حیثیت رکھتا ہے- یہ عطیہ اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان سے اس کے بارے میں یقیناً سوال کیا جائےکہ اس نے اِس عطیے کا حق ادا کیا یا نہیں-
یہی مطلب ہے قرآن کی اِس آیت کا: ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ (102:8) یعنی پھر اُس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں یقیناً پوچھا جائے گا:
Then on the Day you shall be questioned about the favours.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔