قرآن کی سورہ محمد میں اہلِ جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَیُدْخِلُہُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (47: 6) یعنی اللہ اہلِ ایمان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اللہ نے اُن کو اِس جنت کی پہچان کرادی ہے۔
اِس آیت میں پہچان سے کیا مراد ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت اور جنت کے بارے میں بہت زیادہ سوچتا ہے، وہ جنت کے بارے میں کچھ ایسے سراغ (clues) پالیتاہے جس کے حوالے سے وہ جنت کے بارے میں خصوصی دعا کرے اور آخر کار وہ اللہ کے نزدیک جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔جنت کی اِس پہچان کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا سے۔
مثلاً اہلِ جنت جب جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی نعمتوں کا تجربہ کریں گے تو اُن کا جو حال ہوگا، اُس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْہَا مِنْ ثَمَـــرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ وَاُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِہًا ( 2: 25) یعنی جب بھی اہل جنت کو جنت کے باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو اِس سے پہلے ہم کو دیاگیا تھا، اور ملے گا اُن کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ (similar) بنایا ہے۔ جب ایک مومن غور وفکر کرتاہے تو وہ اِس حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے کہ موجودہ دنیا، جہاں خدا نے اس کو رہنے کا موقع دیا ہے، وہ جنت کے مشابہ دنیا ہے۔
یہ دریافت بندۂ مومن کے اندر ایک قسم کا اہتزاز (thrill) پیدا کرتی ہے۔ وہ شکر کے احساس کے تحت کہہ اٹھتا ہے کہ — خدایا، تو نے موت سے پہلے کی زندگی میں مجھ کو متشابہ جنت عطا کردی ، اب تو موت کے بعد کی زندگی میں مجھ کو حقیقی جنت میں داخل فرمادے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔