Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala June 2013
Al-Risala June 2013

سادہ فارمولا

Urdu · 1 min read

موجودہ زمانے کے مسلمان مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہیں- مثلاً فقہی مسائل، سیاسی مسائل، اور بین اقوامی مسائل، وغیرہ- مسائل کے حل کا صحیح فارمولا وہ ہے جو حالات کی نسبت سے قابل عمل ہو- اِس اعتبار سے دیکھئے تو مذکورہ مسائل کا سادہ فارمولا یہاں حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے:

فقہی مسائل میں توسع، سیاسی مسائل میں شورائیت،اور مشترک مسائل میں بین اقوامی رواج کو مان لینا-

فقہی (عبادتی) مسائل میں اختلاف کا اصل سبب یہ ہے کہ صحابہ کی روایتیں عبادات کے فارم کے معاملے میں مختلف ہیں- ایسی حالت میں اِس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ اِن اختلافات کو توسع پر محمول کیا جائے- یہ مسلک حدیثِ رسول کے مطابق ہوگا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے بارے میں فرمایا: بأیہم اقتدیتم اہتدیتم (کشف الخفاء، جلد1، صفحہ 146)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیاسی مسائل میں شورائیت کا مطلب یہ ہے کہ سیاست میں کوئی شخص اپنا معیار چلانے کی کوشش نہ کرے- عوامی رائے کے مطابق، جو بات طے ہو، اس کو مان لیا جائے-

مذہبی معاملات میں افراد کو آزادی دیتے ہوئے، سیاسی اقتدار کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کردیا جائے-

مشترک مسائل میں بین اقوامی رواج کو مان لینے کا مطلب یہ ہے کہ بین اقوامی معاملے میں اُس اصول کو اختیار کرلیناجس کو اُس وقت انٹرنیشنل نارم(international norm) کا درجہ حاصل ہو- مسائل کا حل ہمیشہ حقیقت پسندی میں ہوتا ہے، نہ کہ معیار پسندی میں- اجتماعی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنے ذاتی معیار کو نہیں چلا سکتا، اِس لیے اجتماعی زندگی میں ضروری ہوتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے، دوسروں کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے اپنےعمل کا منصوبہ بنا یا جائے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content