← Al-Risala June 2013Al-Risala June 2013
ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم
Urdu · 14 min read
قرآن میں بتایا گیاہے کہ اللہ سارے عالم کا رب ہے(1:1)- اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کرکے اس کو چھوڑ نہیں دیا، بلکہ وہ ہر لمحہ کائنات کو مینج کررہا ہے، مادی کائنات کو بھی اور انسانی تاریخ کو بھی- مادی کائنات میں اللہ کا مینج مینٹ (management) کلی معنوں میں ہے، لیکن انسان کو چوں کہ انتخاب کی آزادی (freedom of choice) ملی ہوئی ہے، اِس لیے انسانی زندگی میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے، اس کو مینج کررہا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ دنیا میں ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے- موجودہ دنیا میں ہر انسان کو یہ موقع دیاگیا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اِس طرح تعمیر کرے کہ وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے جو کہ انسان کی اصل منزل ہے- اِس مصلحت کے تحت اللہ موجودہ دنیا کی مسلسل نگرانی کرتا ہے- وہ انسانی تاریخ کو اِس طرح مینج کررہا ہے کہ موجودہ زمین اپنے دار الامتحان (testing ground) ہونے کی حیثیت کو کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر برقرار رکھے- اِس کا مقصد زمین پر اجتماعی معنوں میں کوئی صالح نظام قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی انفرادی تعمیر کرنا چاہے، وہ کسی خلل کے بغیر اپنی شخصی تعمیر کرتا رہے-
اللہ کی اِس سنت کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے: وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ (2:251) یعنی اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جائے، مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And if God did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But God is full of bounty to all worlds.
Qur'anQuotes the Qur'an
انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ بظاہر کسی اعلان کے بغیر اپنا کام کررہا ہے- قرآن کی سورہ الکہف (18:60-82) میں موسی اور خضر کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، وہ اِسی مینج مینٹ کی ایک جزئی مثال ہیں- اِس میں جس کردار کو خضر کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک فرشتہ تھا، نہ کہ کوئی انسان-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دو طرفہ انتظام
اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد ایک طرف یہ کیا کہ پیغمبروں کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا جو ساتویں صدی عیسوی میں خاتم النبیین کے ظہور تک جاری رہا- یہ پیغمبر اِس لیے آئے تاکہ انسان کو لفظی طور پر یہ بتادیا جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ کیا ہے، تاکہ جو انسان اِس تخلیقی منصوبے کے مطابق، زندگی گزارنا چاہے، وہ اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرسکے- خاتم النبیین کے ذریعے اللہ کا جو کلام قرآن کی شکل میں آیا، وہ پوری طرح محفوظ ہوگیا، اور پرنٹنگ پریس کے دور میں ہر انسان تک اس کا مستند نسخہ پہنچ گیا- اِس لیے اب کسی پیغمبر کے آنے کی ضرورت نہیں-
اِس خدائی انتظام کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو تاریخ کا ربانی مینج مینٹ (divine-management of history) کہاجاسکتا ہے- اِس مینج مینٹ کا خاص حصہ یہ ہے کہ زمین پر کوئی فتنے کی حالت قائم نہ ہونے پائے- چناں چہ جب بھی زمین پر فتنے کی کوئی حالت قائم ہوتی ہے تو اللہ ایسے حالات پیدا کرتا ہے جو اس کو ختم کردینے والے ہوں- موجودہ زمانے میں اِس قانونِ دفع کی ایک مثال یہ ہے کہ 1917 میں کمیونسٹ ایمپائر قائم ہوا- اس نے ایک بڑے رقبے میں خلافِ مذہب قانون بنا کر انسان سے چوائس (choice) کا حق چھین لیا- اُس وقت اللہ تعالی نے امریکا کو استعمال کیا اور تقریباً 75 سال کے بعد 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے تحت قائم شدہ جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا-
امت مسلمہ کا رول
اِس خدائی منصوبے میں امتِ مسلمہ کا رول کیا ہونا چاہئے، اس کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بتا دیاگیا ہے- اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ الصف کی ایک آیت یہ ہے: یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَى اللّٰہِ ۭ قَالَ الْحَــوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ (61:14) یعنی اے ایمان والو، تم اللہ کے مددگار بنو، جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں سے کہا: کون اللہ کے واسطے میرا مددگار ہوتاہے- حواریوں نے کہا: ہم ہیں اللہ کے مددگار- پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا- پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہوگئے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے- اِس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اِس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطور ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق، امتِ مسیح نے کام کیایا مستقبل میں کام کریں گے- یہ ماڈل آئڈیالوجی یا عقیدہ کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف طریقِ کار (method)کے اعتبار سے ہے- اِس اعتبار سے، امتِ مسیح (Christian community)کے یہاں جو ماڈل ملتا ہے، اس کی دو تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں- حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسیحی گروہ، تعداد کے اعتبار سے، سب سے بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا (صحیح مسلم، کتاب الفتن)- ایسا کیوں کر ہوگا، اس کا جواب بھی اِسی مثال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس معاملے کی پہلی مثال وہ ہے جو خود حضرت مسیح کے زمانے میں پیش آئی-حضرت مسیح کا مقامِ عمل قدیم فلسطین تھا- فلسطین میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں پر سخت ظلم کیا گیا، مگر حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، اُن کے پیروؤں نے اپنے دشمنوں سے کوئی نفرت نہیں کی- انھوں نے دشمنوں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، حتی کہ ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ بھی نہیں کیا- وہ خاموشی کے ساتھ فلسطین سے باہر چلے گئے اور حضرت مسیح کی تعلیم: دشمن سے محبت کرو(love your enemy) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے پرامن دعوت (peaceful missionary work) میں مشغول ہوگئے-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
تاریخ بتاتی ہے کہ سینٹ پال کے زیر اثر مسیحی گروہ کے اندر کچھ نظریاتی انحرافات پیدا ہوئے، لیکن جہاں تک پرامن طریقِ کار کا معاملہ ہے، اُس پر وہ بدستور پوری طرح قائم رہے- پرامن مشنری سرگرمیوں کے ذریعے مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیلتی رہی، یہاں تک کہ رومی شہنشاہ کانسٹینٹین اول (Constantine I)نے 337میں مسیحی مذہب قبول کرلیا- یہ الناس على دین ملوکہم کا دور تھا- چناں چہ جلد ہی ایسا ہوا کہ یورپ کے تقریباً تمام باشندوں نے مسیحی مذہب کو اختیار کرلیا، مسیحی گروہ کو یہ غیرمعمولی کامیابی تمام تر پرامن دعوت کے ذریعے حاصل ہوئی-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسیحی گروہ کے ذریعے تاریخ میں اِس سلسلے میں دوسرا ماڈل ساتویں صدی عیسوی میں قائم ہوا- ساتویں صدی میں مسلمانوں کو جب عروج ہوا تو انھوں نے رومن ایمپائر کو توڑ دیا اور اِس مسیحی سلطنت کے پورے علاقے پر قبضہ کرلیا- اِس علاقے میں مسیحی عقیدے کے مطابق، مقدس مقامات، شام اور فلسطین، بھی شامل تھے- بعد کے زمانے میں یورپ کے مسیحی بادشاہوں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لے لیں- اِس مقصد کے لیے انھوں نے وہ جنگ چھیڑ ی جو تاریخ میں، صلیبی جنگ (Crusades) کے نام سے مشہور ہے-صلیبی جنگ وقفے وقفے سے تقریباً دو سو سال (1095-1291) تک جاری رہی- مورخ گبن کے الفاظ میں، اِس جنگ میں یورپ کی مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی- مگر تاریخ کا یہ انوکھا معجزہ ہے کہ اِس شکست کے بعد مسیحی قوموں میں منفی ردّعمل (negative reaction) کا جذبہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ انھوں نے یہ کیا کہ اپنے جذبے کو پُرامن عمل کی طرف ڈائـورٹ(divert) کردیا، یعنی مسلمانوں سے مسلح مقابلہ ختم کرکے علم وتحقیق کے میدان میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ڈائـورژن (diversion) کے اِس عمل کو ابتدائی زمانے میں، اسپریچول کروسیڈ (spiritual crusades) کہاگیا تھا- بعد کو وہ رفتہ رفتہ سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) میں تبدیل ہوگیا- اِس عمل میں اُس وقت چرچ رکاوٹ بن گیا تو انھوں نے سخت جدوجہد کے بعد چرچ کے اختیارات پر حد بندی قائم کردی، پھر 1929 میں چرچ کو ویٹکن (روم) کے محدود رقبے میں گویا ہاؤس اریسٹ (house arrest) کردیا جس کا کُل رقبہ صرف 109 مربع ایکڑ ہے-
اِس دور میں یورپ کے جن لوگوں نے سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) یا سائنسی ریسرچ کے میدان میں کام کیا، وہ تقریباً سب کے سب مسیحی افراد تھے- اِس سائنسی عمل میں بریک تھرو (breakthrough) اُس وقت آیا، جب کہ 1609 میں اٹلی کے فلکیاتی عالِم گلیلیو (Galileo Galilei) نے ابتدائی دور بین تیار کی اور اس کے ذریعے خلا کا مشاہدہ کیا- اس مشاہدے نے سائنس دانوں کے سامنے عمل کا ایک ایسا میدان کھول دیا جو ناقابل قیاس حد تک وسیع تھا- اُس وقت یورپی ذہن نے یہ جانا کہ ہم عالمِ صغیر میں جی رہے تھے، جب کہ یہاں عالمِ کبیر ہمارا استقبال کرنے کے لیے موجود ہے- اس کے بعد یورپ کے مسیحی اہلِ علم پوری طرح سائنسی تحقیق کے میدان میں سرگرم ہوگئے، یہاں تک کہ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کردیا جس کو عام طور پر جدید تہذیب (modern civilization) کہاجاتا ہے-
قابلِ تقلید ماڈل
قرآن کی سورہ الصف میں پیروانِ مسیح کے اِس ماڈل کو اہلِ ایمان کے لیے قابلِ تقلید ماڈل کے طورپر پیش کیا گیاہے- اِس سے مراد خاص طورپر پیروانِ مسیح کی تاریخ کے یہی دو واقعات ہیں- پہلا واقعہ وہ ہے جو حضرت مسیح کے بعد کی ابتدائی صدیوں میں پیش آیا، اُس وقت پیروانِ مسیح کو سخت طورپر ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کے مقابلے میں رد عمل کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ طریقہ اختیار کیا جو حضرت مسیح نے اُن کو اِن الفاظ میں بتایا تھا — اپنے دشمن سے محبت کرو- اِس کا مطلب یہ تھا کہ دوسروں کی طرف سے اگر تم کو دشمنی کا تجربہ ہو تب بھی تم اپنے آپ کو منفی نفسیات سے بچاؤ اور یک طرفہ طورپر پر امن طریقہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں تک اپنا پیغام پہنچاؤ-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد سامنے آیا ، یعنی عسکری میدان میں ناکامی کے بعد اپنے میدانِ عمل کو بدل دینا، جیسا کہ پیروانِ مسیح نے کیا- انھوں نے مسلح کروسیڈ کے میدان میں اپنی کوششوں کو بے نتیجہ پایا تو انھوں نے ڈائـورژن کا طریقہ اختیار کیا، اِس طرح کہ عسکری میدان کو چھوڑ کر پر امن سائنسی میدان میں اپنے آپ کو سرگرمِ عمل کرلیا-
امت مسلمہ کی کوتاہی
عجیب بات ہے کہ سورہ الصف میں مسلمانوں کو جوعملی نصیحت کی گئی تھی، اس کو وہ اختیار نہ کرسکے- مسلمانوں سے یہ مطلوب تھا کہ وہ پیروانِ مسیح کے اُس ماڈل کو اپنائیں جس کو قرآن میں پیشگی طورپر بتادیا گیا تھا- یہی وہ پرامن ماڈل ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر اختیار فرمایاتھا- مگر مسلمان بحیثیت قوم اِس سے بے خبر رہے، وہ اِس ماڈل کو اپنانے میں ناکام رہے- مسلمانوں کی تاریخ میں اِس کی دو بڑی مثالیں موجود ہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پہلی مثال وہ ہے جو نوآبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد پیش آئی- اِس دور میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سلطنتوں کو توڑ دیا اور ان کے سیاسی دبدبے کو ختم کردیا- اس کے بعد مسلمان منفی رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوگئے- وہ نفرت اور انتقام اور تشدد میں مبتلا ہو کر رہ گئے، حالاں کہ قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل کے مطابق، انھیں یہ کرنا تھا کہ وہ پُرامن طریقِ کار اختیار کرتے، یعنی وہ میدانِ جنگ کو چھوڑ کرمیدانِ دعوت میں آجاتے، جن لوگوں کو وہ اپنا حریف سمجھ کر اُن سے متشددانہ ٹکراؤ کررہے تھے، اُن کو مدعو کا درجہ دے کر وہ ان کے اوپر پر امن دعوہ ورک شروع کردیتے- اگر مسلمان ایسا کرتے تو یقیناً اُن کے اوپر قرآن کے وہ الفاظ صادق آتے جو اِس سے پہلے پیروانِ مسیح کے اوپر صادق آچکے تھے، یعنی: فأیدنا الذین آمنوا على عدوّہم فأصبحوا ظاہرین (61:14)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیروانِ مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ تھا جو صلیبی جنگوں کے بعد ظہور میں آیا- اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا کے اوپر پہلی بار فطرت کے قوانین (laws of nature) منکشف ہوئے اور جدید تہذیب وجود میں آئی جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے-
اِس دوسرے معاملے میں بھی مسلمان پوری طرح ناکام ہوگئے- قرآن میں بیان کردہ پیروانِ مسیح کے ماڈل میں ان کے لیے یہ پیغام تھا کہ مغربی قوموں سے مقابلہ آرائی میں جب باعتبار نتیجہ وہ ناکام ہوجائیں تو وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی (revision) کریں-اِسی نظر ثانی کو قرآن میں اجتماعی توبہ (24:31) کہاگیا ہے- نظرثانی کا وہ عمل یہ تھا کہ مسلمان اپنی کوششوں کو ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائیں اور وہ اپنےآپ کو پوری طرح تعمیری کام میں لگادیں، مگر مسلمان نفرتِ مغرب میں اتنی شدت سے مبتلا ہوئے کہ ان کے اندر یہ تعمیری سوچ پیدا نہ ہوسکی-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر مسلمان اپنی منفی نفسیات سے باہر آکر مثبت انداز میں سوچتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ مغرب کی مسیحی قوموں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ عین اُن کی اپنی موافقت میں ہے- اِس کے نتیجے میں جو جدید تہذیب وجود میں آئی ہے، اس نے مسلمانوں کے لیے خدمتِ دین اور اشاعتِ اسلام کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے ہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرمایا تھا کہ بعد کے دور میں اللہ تعالی کچھ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو دین کے حق میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیں گے- مغرب کی مسیحی قوموں کا کارنامہ اِسی قسم کا تائیدی کارنامہ تھا- اِس موقع پر مسلمانوں کو چاہئے تھاکہ وہ مغربی قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی پالیسی کو مکمل طورپر ختم کردیں- اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے اندر ایک نیا مثبت ذہن ابھرتا- اس کے بعد وہ جان لیتے کہ مغربی قوموں نے ان کے لیے کتنا بڑا تائیدی کام انجام دیا ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس تائیدی کام کا ایک پہلو وہ ہے جس کو قرآن میں اِس طرح بیان کیا گیا ہے — عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان کے اوپر یہ آشکارا ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے(40:53)- قرآن کی اِس آیت میں جن چیزوں کو آیات (signs) کہا گیا ہے، اُن سے مراد وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جو پہلی بار مغربی قوموں کے ذریعے انسان کے علم میں آئیں- یہ سائنسی دریافتیں بے شمار پہلوؤں سے اسلام اور دعوتِ اسلام کے لیے مفید اور معاون ہیں-حقیقت یہ ہے کہ ساتویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا، وہ ایک پہلو سے تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز تھا- یہ عمل تدریجی طورپر اپنا کام کرتا رہا- نشاةِ ثانیہ کے بعد یورپ میں جو انقلابات آئے، وہ سب اِسی تاریخی عمل کی تکمیل تھے- مثلاً افکار کے معاملے میں کھلا پن (intellectual openness)، مذہبی آزادی، تشدد کے طریقے کا بحیثیت اصول ختم ہوجانا، بادشاہت کے بجائے جمہوریت کا نظام، پرنٹنگ پریس کا دور، وغیرہ-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس قسم کی تمام تبدیلیاں جو مغربی تہذیب کے بعد دنیا میں آئیں، وہ سب خود اسلام کا مطلوب تھیں- اِن تبدیلیوں کے ذریعے یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کی صداقت کو خالص علمی اعتبار سے مدلّل کیا جائے- جدیدٹکنالوجی اور کمیونکیشن نے اِس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کی اشاعت کو عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے- اِس طرح کی بے شمار جدید چیزیں ہیں جو عین اسلام کے حق میں ہیں اور وہ عملاً سب کی سب مغربی تہذیب کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوئی ہیں-
امتِ مسلمہ کی تاریخ اب اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے- اب آخری طورپر وہ وقت آگیا ہے، جب کہ امت کے اندر وہ سوچ پیدا ہو جس کو قرآن کے اندر اجتماعی توبہ کہا گیا ہے، یعنی قومی پالیسی کو بدلنا- یہی امت مسلمہ کے مسائل کا واحد حل ہے- اِس کے سوا کوئی اور حل نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب- پچھلی صدیوں میں جو حالات پیدا ہوئے، اس کے نتیجے میں، ساری دنیا کے مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات کا ذہن پیدا ہوا- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنی اصل حیثیت کو بھول گئے، یعنی یہ کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کا درجہ رکھتی ہیں-
اصل حقیقت کے اعتبار سے، مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان داعی اور مدعو کی نسبت ہے، لیکن مسلمانوں کی منفی نفسیات کی بنا پر یہ ہوا کہ مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان حریف اور رقیب کی نسبت قائم ہوگئی- موجودہ زمانے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں اور دوسرے انسانوں کے درمیان اِس نسبت کو درست کیا جائے- مسلمانوں کے اندر عمومی طورپر یہ سوچ پیدا کی جائے کہ وہ داعی ہیں اور دوسری قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں- اِسی میں مسلمانوں کی دنیا کی کامیابی بھی ہے اور اِسی میں ان کی آخرت کی کامیابی بھی- (10 اپریل 2013)