← Al-Risala June 2013Al-Risala June 2013
پیرانوئیا کی نفسیات
Urdu · 5 min read
آپ انٹرنیٹ کھولیں تو آپ کو اُس میں دو اصطلاحیں ملیں گی — جوئش پیرانوئیا (Jewish Paranoia) اور مسلم پیرانوئیا (Muslim Paranoia) - دونوں عنوانات کے تحت آپ کو بہت سے مضامین ملیں گے- اِن مضامین کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ اپنے بعد کے زمانے میں، یہود اور مسلمان دونوں، ایک ہی نفسیات کا شکار ہوئے- یہ نفسیات وہی ہے جس کو اصطلاحی طورپر پیرانوئیا (paranoia) کہاجاتاہے- پیرانوئیا کا مطلب ہے: فریب خوردگی (delusion) میں جینا-
یہود اور مسلمانوں کی اِس فریب خوردگی کا مشترک سبب اُن کی قومی تاریخ ہے- دونوں کے ساتھ یہ ہوا کہ قدیم زمانے میں اُن کو قومی بر تری اور سیاسی دبدبہ ملا- اِس کے بعد دونوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ قومیں ابھریں جنھوں نےدونوں کی قومی برتری اور سیاسی دبدبے کو ختم کردیا- یہ واقعہ پہلے، یہود کے ساتھ پیش آیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے ساتھ-یہ واقعہ قانونِ فطرت کے تحت ہوا تھا، لیکن دونوں نے اُس کو ’’غیروں‘‘ کی سازش قرار دے دیا-
اِس سے دونوں کے اندر جو مریضانہ ذہنیت پیداہوئی، اُسی کا نام پیرانوئیا ہے-اِس ذہنیت کے نتیجے میں مشترک طورپر جو ہوا، وہ یہ تھا— اپنے بارے میں فرضی فخر (false pride) اور دوسرے کے بارے میں فرضی نفرت (false hate)- اِس بگڑے ہوئے مزاج کے تحت دونوں کے اندر جو برائیاں پیدا ہوئیں، اُن میں سے ایک مشترک برائی یہ تھی کہ دونوں نے دعوت کا وہ کام چھوڑ دیا جس کی ذمے داری اُن پر خدا کی طرف سے ڈالی گئی تھی-
اِس سلسلے میں یہود کے کیس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوْنَہٗ ۡ فَنَبَذُوْہُ وَرَاۗءَ ظُہُوْرِھِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَـــنًا قَلِیْلًا ۭ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ (3:187) یعنی یہود سے یہ عہد لیا گیا تھاکہ تم ضرور اس کو لوگوں کے سامنے بیان کروگے اور اس کو نہ چھپاؤگے، لیکن انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا- اِس سلسلے میں مسلمانوں کی ذمے داری کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیاگیاہے: لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاس(22:78)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک حقیقت ہے کہ یہود نے اپنے بعد کے زمانے میں تبیینِ حق کی ذمے داری کو چھوڑ دیا، حتی کہ اِس حکم کی فرضیت اُن کے لیے ایک نامعلوم چیز بن گئی- انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا لیا کہ نجات (salvation) صرف یہود (بنی اسر ائیل) کے لیے ہے-غیر یہود کے لیے نجات ہی نہیں- ٹھیک یہی حال بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا ہوا- دعوت یا شہادت علی الناس کا حقیقی تصوران کے ذہن سے حذف ہوگیا- ان کی تفسیریں، اُن کی شرحیں اور ان کی تیار کردہ کتابیں دعوت الی اللہ کے حقیقی تصور سے خالی ہیں- انھوں نے اپنے آپ کو ’’خیر امت‘‘ کا درجہ دےرکھا ہے اور دوسروں کو انھوں نے عملاً ’’کافر‘‘ کا درجہ دے کر اُن کو نظر انداز کردیا ہے-
موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے بظاہر دعوت کے نام سے ادارے قائم کیے ہیں، اور اس کے تحت کچھ سرگرمیاں کررہے ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبا ر سے، یہ سرگرمیاں دعوتی سرگرمیاں نہیں- ان کی سرگرمیوں کو دو قسم میں تقسم کیا جاسکتا ہے — ایک، وہ لوگ ہیں جو دعوت کےنام پر ڈبیٹ (debate) کرتے ہیں- وہ دوسروں کے مذہب پر مسلمانوں کے مذہب کی بر تری ثابت کرتے ہیں- اِس سے مسلمانوں کے جذبہ فخر کو تسکین ملتی ہے- مسلمان اُن کی تقریروں پر خوش ہو کر تالیاں بجاتے ہیں، مگر اس قسم کا ڈبیٹ صرف ایک قومی کام ہے، اس کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں-
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دعوت کا نام لیتے ہیں، لیکن عملاً اُن کا کام یہ ہے کہ وہ عوام کے اندر جائیں اور پر اسرار قسم کے بے اصل قصے کہانیاں سنا کر وقتی طورپر لوگوں سے کلمہ پڑھوائیں- اِس طرح کے کام سے مسلمان خوش ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کا تعاون کرتے ہیں، اِس لیے کہ اِس کام میں مسلمانوں کو یہ نفسیاتی تسکین ملتی ہے کہ اُن کی قوم کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے-
دعوت الی اللہ کے کام کا نہ قومی فخر سے کوئی تعلق ہے اور نہ قومی تعداد بڑھانے سے- دعوت الی اللہ تمام تر شہادت علی الناس کا کام ہے- دعوت کا کام انسانوں کی خیر خواہی میں خالص آخرت کے جذبے کے تحت ہوتا ہے- دعوت کا کام کیا ہے، اس کی حقیقت قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتی ہے: رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ(4:165)-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پچھلی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ کچھ طاقتوں نے فلسطین میں یہودیوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کیں- اِس کے بعد یہود کی تاریخ میں ایک ظاہرہ پیدا ہوا جس کو ڈائس پورا (diaspora) کہاجاتا ہے، یعنی اپنے وطن سے ہجرت کرنا اور دوسرے مقام پر جاکر آباد ہونا-
اِس طرح جو یہود فلسطین کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں گئے، وہ اپنی علاحدہ قومی شناخت (identity) کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے- چناں چہ وہ جس ملک میں گئے، وہاں انھوں نے اپنی علاحدہ بستیاں بنائیں- اِن بستیوں کو گھیٹو (ghetto) کہا جاتا ہے- اپنی شناخت برقرار رکھنے کے نام پر اِس طرح علاحدہ بستیاں بنانا کوئی سادہ بات نہ تھی- اِس طرح علاحدہ رہنے کی وجہ سے اُن کے اندر ایک ذہنیت پیدا ہوئی جس کو گھیٹو مینٹلٹی (ghetto mentality) کہاجاتا ہے- بعد کے زمانے میں خود یہودیوںمیں گھیٹو کا یہ کلچر باقی نہ رہا- وہ تعلیم اور دوسرے جدید شعبوں میں دوسری قوموں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے- اِس طرح یہودیوں کے اندر گھیٹو مینٹلٹی بڑی حد تک ختم ہوگئی-
موجودہ زمانے میں مسلمانوںکے اندر بھی یہی کلچر رائج ہوا، یعنی مسلم شناخت کے نام پر دوسروں سے الگ ہو کر رہنا- یہ صورتِ حال تادمِ تحریر برقرار ہے- اِس روش نے مسلمانوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر گھیٹو ذہنیت پیدا کردی- اِسی گھیٹو ذہنیت کا ایک سیاسی مظاہرہ وہ تھا جس کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جاسکتا ہے-
اِس پاکستانائزیشن کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا ہے، اُس کی کوئی مثال پچھلی پوری تاریخ میں نہیں ملتی- موجودہ زمانے میں پاکستانائزیشن کی پالیسی اسلام کے نام پر اختیار کی گئی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ صرف سیاسی گھیٹوازم (political ghettoism) تھا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں (25 جنوری 2013)