1947 کے بعد کشمیر کی ریاست انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک نزاعی اشو بن گئی۔اب بے شمار نقصانات کے بعد پاکستان نے اِس معاملے میں دانش مندانہ پالیسی اختیار کی ہے۔پاکستانی حکومت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا کو موسٹ فیورڈ نیشن (Most-Favoured Nation) کا درجہ دے دیا جائے۔ اِس کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے(ملاحظہ ہو، ہندستان ٹائمس، 1 مارچ 2012، صفحہ 15)۔ اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کو 1996 میں موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے دیا تھا۔ اِس کے جوا ب میں پاکستان کو بھی یہی کرنا چاہیے تھا، مگر پاکستانی لیڈروں نے ایسا کرنے میں بہت دیر کی۔ وہ ڈرتے تھے کہ کشمیر کے بارے میں حساس پاکستانی عوام اِس کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کریں گے۔
اِس واقعے میں لیڈر شپ کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ لیڈر شپ کو کبھی ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی اِشو پر جذباتی انداز اختیار کرے، وہ اس کے بارے میں ہائی پروفائل میں بولنے لگے۔ اِس قسم کا طریقہ لیڈر شپ کے لیے ایک غیر دانش مندانہ طریقہ ہے، کیوں کہ عوام کو اگر ایک بار جذباتی تقریریں کرکے بھڑکا دیا جائے تو وہ حقیقت پسندانہ مزاج کھودیتے ہیں۔ اِس کے بعد خواہ حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، وہ یوٹرن (U Turn) لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اُن کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ — خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے، لیکن ہم اِس مسئلے پر مفاہمت نہیں کریں گے۔
اِس قسم کا مزاج کسی قوم کی ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جذباتی انداز کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اجتماعی زندگی نام ہے — اپنی سوچ اور فریقِ ثانی کی سوچ کے درمیان ایڈجسٹمنٹ تلاش کرنے کا۔ اجتماعی زندگی کے معاملات یک طرفہ بنیاد پر طے نہیں ہوتے، بلکہ وہ دو طرفہ بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں جذباتی سیاست کا طریقہ ایک سنگین رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی کے معاملات یا تو فریقِ ثانی کی رعایت کے ذریعے حل ہوتے ہیں، یا وہ کبھی حل نہیں ہوتے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔