← Al-Risala June 2012Al-Risala June 2012
انسانی ذمّے داری
Urdu · 14 min read
(Human Responsibility)
رسپانسبلٹی (responsibility) سے مراد وہی چیز ہے جس کو ڈیوٹی (duty) کہاجاتاہے۔ کہا جاتاہے کہ — انسان ایک سماجی حیوان ہے:
Man is a social animal
اِس کا مطلب یہ ہے کہ سوسائٹی کا ممبر ہونے کی حیثیت سے ہر فرد کے اوپر اپنی سوسائٹی کی نسبت سے کچھ ذمے داریاں ہیں (Individual’s duty towards his society) ۔
اِسی کے ساتھ انسان، نیچر کا ایک حصہ ہے۔ اِس اعتبار سے، ہر انسان کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ وہ نیچر کے معاملے میں اپنی ڈیوٹی کو ادا کرے۔ اِس طرح، انسانی ذمے داری کے دو پہلو ہیں— ایک، سوسائٹی کی نسبت سے۔ اور دوسرا، نیچر کی نسبت سے۔ انسانی ذمے داری کا یہ تصور مذہبی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔
تمام مذاہب میں انسان کی اِن دونوں ذمے داریوں کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ اِس طرح، اسلام میں بھی اِن دونوں پہلوؤں کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔
رسپانسبلٹی اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ آپ کو دوسروں سے جو کچھ ملتا ہے، آپ عملی طورپر اس کا اعتراف کرنا چاہیں تو اِسی سے وہ کردار وجودمیں آتاہے جس کو انسانی ذمے داری کہا جاتا ہے۔
سوسائٹی کی نسبت سے فرد کی ذمے داری
پہلے سوسائٹی کو لیجئے۔ پچھلے زمانے میں سوسائٹی سے مراد آپ کا قریبی سماج ہوتا تھا۔ اب ہم الکٹرانک دور میںجی رہے ہیں، اِس لیے اب سوسائٹی کا لفظ وسیع ترسماج کے ہم معنی بن گیا ہے۔ اب سوسائٹی سے مراد قریبی سوسائٹی بھی ہے، اور الکٹرانک سوسائٹی بھی۔
سماجی زندگی کا اخلاقی معیار یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سوسائٹی میں اُس کا دینے والا ممبر (giver member) بن کررہے۔ وہ سوسائٹی میں اِس طرح رہے کہ اُس سے دوسروں کو کچھ نفع مل رہاہو۔ وہ سوسائٹی کے حق میں اپنی ڈیوٹی کو ادا کرے۔ مثلاً وہ دوسروں کے لیے کوئی پرابلم پیدا نہ کرے۔ وہ دوسروں سے کئے ہوئے عہد کو لازماً پورا کرے۔ وہ دوسروں کے جان ومال میں اُنھیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ وہ سماج میں ایک قابل پیشین گوئی کردار والا انسان (predictable character) بن کر رہے، یعنی سماج اُس سے جائز طور پر جو امید رکھے، اُس امید میںوہ پورا اترے۔
ایک واقعہ اِس معاملے کو اچھی طرح واضح (illustrate) کرتاہے۔شکاگو (Chicago) امریکا کا ایک شہر ہے۔ شکاگو کے لفظی معنی جنگلی پیاز (wild onion) کے ہیں۔ پہلے یہ شہر اپنی گندگی اور جرائم اور ناقص مکانات کے لیے مشہور تھا۔ اِس لیے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ آج شکاگو ایک اعلیٰ درجے کا خوب صورت شہر ہے۔
شکاگو کی جدید تاریخ رچرڈڈیلی (Richard J. Daley) کی طرف منسوب ہے۔ وہ 1902 میں پیدا ہوا، اور 1976 میں اس کی وفات ہوئی۔ 1955 میں وہ شکاگو کا میئر منتخب ہوا، اور آخر عمر تک وہ شکاگو کا میئر رہا۔ میئر بننے کے بعد اس نے از سرِ نو شہر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا۔ اس نے قدیم شکاگو کو ہر اعتبار سے نیا شکاگو بنا دیا۔
رچرڈ ڈیلی کی کامیابی کا خاص راز یہ تھا کہ اس نے شکاگو کی جدید تعمیر کو وہاں کے باشندوں میں سے ہر ایک کا ذاتی مسئلہ بنا دیا۔ اُس نے ہر ایک کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ یہ کام مجھے کرنا ہے، اور میں ہی اس کو انجام دوں گا۔ اس نے شکاگو میں بسنے والے ہر شخص کو یہ ماٹو دیا— میںاِس کو کروں گا:
I will do it.
ایک فرد کے لیے سماج میں جینے کے دو اصول ہیں— ایک، یہ کہ وہ سماجی ذمے داریوں کو اپنے اوپر لے۔ دوسرا، یہ کہ وہ سماجی ذمے داریوں کو دوسروں کے اوپر ڈالے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایک ہے، آئی ول ڈو اسپرٹ (I will do spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا۔ اور دوسرا ہے، دے وِل ڈو اِٹ اسپرٹ (They will do it spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا۔ اِن دونوں طریقوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سماج کے افراد آئی ول ڈو اٹ اسپرٹ (I will do it spirit) کے ساتھ رہیں، وہ سماج ترقی کرے گا۔ اس کے ہر شعبے درست طورپر کام کریں گے۔ اِس کے برعکس، جس سماج کے افراد دے وِل ڈو اِٹ اسپرٹ (They will do it spirit) کے ساتھ رہیں، وہ سماج غیر ترقی یافتہ سماج ہوگا۔ ایسے سماج کے ہر شعبے بگاڑ کا شکار ہوجائیں گے۔ آئی ول ڈو اٹ (I will do it) ذمے دار شخصیت کی علامت ہے اور دے وِل ڈو اِٹ (They will do it) غیر ذمے دار شخصیت کی علامت۔
سماجی رسپانسبلٹی کا تصور ہر فرد کو ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) بناتا ہے۔ ایسے سماج میں ہر فرد اس کا گور ممبر (giver member) بن کر رہنے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ صرف ٹیکر ممبر (taker member)۔ اِس کے برعکس، جس سماج میں لوگوں کے اندر رسپانسبلٹی کا احساس نہ ہو، وہاں کا ہر فرد رائٹ کانشس (right-conscious) بن جائے گا۔ ایسے سماج کا ہر فرد، سماج سے اپنے لیے لینا چاہے گا، لیکن خود سماج کو دینے کی اسپرٹ اس کے اندر موجود نہ ہوگی۔
رسپانسبلٹی پر مبنی سماجی اخلاقیات کی معقولیت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سماج اپنے وسیع تر مفہوم میں، ہر فرد کو بہت زیادہ دے رہاہے۔ کوئی فرد سماج کو جو کچھ دیتاہے، وہ اُس سے بہت کم ہے جو اُس کو سماج سے مل رہا ہے۔ کوئی فرد اگر پورے معنوں میں سماج کا گور ممبر بن جائے، تب بھی سماج کے لیے اُس کا عطیہ ایک فی صد سے بھی کم ہوگا، جب کہ سماج نے اس کو جو کچھ دیاہے، وہ 99 فی صد سے زیادہ ہے۔ اس لیے کسی فرد کے لیے سماجی اخلاقیات میں کوتاہی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس اصول کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ — جو شخص انسان کا معترف نہ ہو، وہ خدا کا معترف بھی نہیں ہوسکتا (من لم یشکر الناس، لم یشکر اللہ)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سوسائٹی صرف اُس قریبی مجموعۂ انسانیت کا نام نہیں ہے جہاں ایک فرد پیداہوتا ہے، بلکہ سوسائٹی ایک طویل سلسلۂ تاریخ کانام ہے۔ سوسا ئٹی کا دائرہ، پہلے انسان (آدم) سے لے کر، آج کے انسان تک پھیلا ہوا ہے۔ اِس پورے مجموعۂ انسانیت نے اپنی لمبی تاریخ کے دوران جو کچھ کیا ہے، اس کو تہذیب کا ارتقا کہا جاتاہے۔ تہذیب کے اِس ارتقا میںہر فرد اپنا حصہ پارہا ہے۔ آج ایک فرد جس مہذب دنیا (civilized world) میں رہ رہا ہے، وہ دنیا ہمیشہ سے موجود نہ تھی۔ وہ پوری انسانیت کی لمبی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
ایک وقت تھا کہ انسان اپنے پیروں پر چلتا تھا، پھر لمبے تجرے کے بعد انسان نے پہیہ بنایا۔ اِس طرح، انسان کے لیے پاؤں پر چلنے کے بجائے گاڑی سے چلنے کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کشتی بنائی۔ اِس طرح دریاؤں اور سمندروں کو بحفاظت پار کرنے کا دور شروع ہوا۔ پھر لمبے تجربے کے بعد انسان نے اسٹیم پاور دریافت کیا۔ اِس کے بعد ریلوے ٹرین اور اسٹیم شپ کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کار بنائی اور انسان تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنے کے دور میں پہنچا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد ہوائی جہاز بنایا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ انسان فضا میں تیز رفتاری کے ساتھ اڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے اور جنگل اور پہاڑ اور سمندر اور بستیاں کوئی بھی چیز اُس کے سفر میں رکاوٹ ثابت نہ ہوں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ انسانیت کی جدوجہد کے صرف ایک پہلو کی چھوٹی سی مثال ہے۔ اِس طرح پورا مجموعہ انسانیت ہزاروں سال تک مسلسل جدوجہد کرتا رہا، یہاں تک کہ لاکھوں کی تعداد میں زندگی کے بے شمار سامان وجود میں آئے، جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے۔ موجودہ تہذیب کو وجود میں لانے میں پورے مجموعۂ انسانیت کا حصہ ہے۔ ایک سُوئی (needle)سے لے کر ایک ترقی یافتہ شہر تک، ہر چیز میں براہِ راست طورپر پوری انسانیت کی مجموعی جدوجہد اور قربانی شامل ہے۔
یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جو انسانی رسپانسبلٹی کی اخلاقی بنیاد ہے۔ جب ایک فرد اِس حقیقت کو دریافت کرتاہے کہ آج وہ جس ترقی یافتہ دنیا میں رہ رہا ہے ، اُس کو وجود میں لانے کے لیے پوری انسانیت اس میں شریک ہے، اِس معاملے میں وہ پوری انسانیت کا مقروض ہے۔ جب ایک شخص اِس تاریخی حقیقت کا اعتراف کرکے اس کے مطابق، زندگی گزارے تو اِسی کا نام سوسائٹی کے حق میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔ گویا کہ انسانی رسپانسبلٹی ایک اعتبار سے، پوری نوعِ انسانی (mankind) کے کنٹری بیوشن (contribution)کا اعتراف ہے، اور دوسرے اعتبار سے، وہ اپنے انفرادی دائرے میں اس کی محدود قیمت ادا کرنا ہے۔
انسانی ذمے داری کی اِسی نوعیت کی بنا پر قرآن میں اس کو انسان کی طرف سے انسان کو اس کے حقوق ادا کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: إن اللہ یأمرکم أن تؤدّوا الأمانات إلی أہلہا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
God commands you to hand back your trusts to their rightful owners. (4: 58)
Qur'anQuotes the Qur'an
اسلام کے اِس تصور (concept) کے مطابق، ایک فرد جب انسانی سماج کے حق میں اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتا ہے تو وہ دوسروں کو کچھ دیتا نہیں ہے، وہ صرف یہ کرتا ہے کہ دوسروں سے ملے ہوئے میں سے کچھ حصے کو وہ اُن کی طرف لوٹاتا ہے۔ یہ تصور ہر فرد کے اندر اپنی ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے طاقت ور محرک (strong incentive) پیدا کرتاہے، اتنا زیادہ طاقت ور محرک کہ اس سے زیادہ طاقت ور محرک اور کوئی نہیں۔
نیچر کی نسبت سے فردکی ذمے داری
انسانی ذمے داری کا دوسرا پہلو وہ ہے جو نیچر سے تعلق رکھتا ہے۔ نیچر سے مراد پورا عالمِ مادیت (entire physical world) ہے۔ یہ عالم جس کے اندر انسان اپنے آپ کو پاتا ہے، وہ انسان کے لیے اتنا زیادہ موزوں ہے جیسے کہ وہ اُسی کے لیے بنایا گیا ہو۔ اِسی لیے ایک سائنس داںنے اس کو کسٹم میڈ ورلڈ (custom-made world) کہا ہے۔ اِس دنیا کے اندر انسان کی ضرورت کی تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں موجود ہیں۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واٰتاکم من کل ما سألتموہ:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
God has given you all that you asked of Him. (14:34)
انھیں تمام چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہاجاتا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر موجودہ دنیا میں انسان کی زندگی ممکن ہی نہ ہوتی۔
ہماری یہ موافق دنیا اتفاقاً اِس طرح نہیں بن گئی ہے۔ اُس کو بنانے والے نے اُس کو بلا شبہہ شعوری منصوبے کے تحت اِس طرح بنایا ہے کہ وہ ہر پہلو سے عین ہماری ضرورتوں کے موافق ہے۔ اِس طرح کی ایک موافق دنیا ہم خود وجود میں نہیں لاسکتے تھے۔ یہ دنیا ہم کو خالق کی طرف سے انتہائی استثنائی طورپر بطور خصوصی عطیہ دی گئی ہے۔قرآن میں موجودہ دنیا کے اِس پہلو کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم فطری حالت پر باقی رکھتے ہوئے اس کا استعمال کرو، تم اُس میں ہر گز کوئی بگاڑ پیدا نہ کرو۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے— ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحہا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Do not corrupt the land after it has been set in order (7: 85)
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ہماری دنیا ایک اصلاح یافتہ دنیا ہے۔ وہ پیشگی طورپر انسان کی ضرورتوں کے مطابق، بنائی گئی ہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اِس دنیا کو اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرے، لیکن کسی انسان کو یا کسی انسانی مجموعے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دنیا کے فطری نظام کو بگاڑے۔ وہ دنیا کے فطری نظام میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا کرے جس کے بعد وہ اگلی نسلوں کے لیے قابلِ استعمال نہ رہے۔ یہ انسان کی وہ ذمے داری ہے جو نیچر کے اعتبار سے، انسان کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن میں یہ ہدایت دی گئی ہے— کلوا واشربوا ولا تسرفوا :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Eat and drink, but do not be wasteful (7: 31)
مثلاً انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین میں واقع پانی کے ذخیرے کو استعمال کرے، لیکن اُس کو یہ حق نہیں کہ وہ پانی میں کسی قسم کی آلودگی (pollution) پیدا کرکے اس کو انسان کے لیے ناقابلِ استعمال بنا دے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی سطح پر اُگے ہوئے درختوں کو استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے درختوں کو کاٹ کر زمین کی ہریالی (greenery)کو ختم کردے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی زرخیزی کو زراعت کے لیے استعمال کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں کہ وہ زمین کے غلط استعمال سے اس کو ناقابلِ پیداوار بنادے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ زمین کی فضا کو استعمال کرے، لیکن انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے کسی غیر فطری عمل کے ذریعے وہ خرابی (evil) پیدا کرے جس کو فضائی کثافت کہاجاتاہے۔ انسان کو یہ حق ہے کہ وہ یہاں اپنی انڈسٹری لگائے، مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ یہاں ایسی انڈسٹری لگائے جو اوزون کے زندگی بخش غلاف (layer) کو ڈیمیج کردے، وغیرہ۔
نیچر انسان کے لیے ایک بے حد قیمتی تحفہ ہے جو انسان کو بالکل فری دیاگیا ہے، لیکن انسان اِس نیچر کا مالک نہیں، وہ اُس کا امین ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ نیچر کے بارے میں خالق کے منصوبے کو جانے اور وہ اس کو خالق کے منصوبے کے مطابق، استعمال کرے۔
خالق کا وہ منصوبہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کو انسانی خواہش کے مطابق (according to human greed) نہیں بنایا، بلکہ خالق نے نیچر کی تمام چیزوں کوانسانی ضرورت کے مطابق (according to human need) بنایا ہے۔ اِسی حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے— إناّ کلّ شیٔ خلقناہ بقدر :
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We have created everything in due measure (54: 49)
یہ تخلیقی منصوبہ انسان کے لیے لازم کرتاہے کہ وہ ایک طرف، اپنی حقیقی ضرورتوں کا تعین کرے اور دوسری طرف، وہ نیچر کی چیزوں کو اُن کی تخلیقی نوعیت کے اعتبار سے جانے، پھر وہ اِن دو طرفہ تقاضوں کے مطابق، اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ اِس کے برعکس، انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی خواہش کی بنیاد پر نیچر کا اندھا دھند استعمال کرے، کیوں کہ ایسا کرنے سے نیچر کا متناسب نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی خواہشیں (desires) لامحدود ہیں۔ اِس کے برعکس، نیچر کی تمام چیزیں محدود ہیں۔ ایسی حالت میں انسان اگر خواہشوں (desires) کی بنیاد پر اپنا پلان بنائے، تو اس کا پلان خالق کے پلان کے مطابق نہ ہوگا۔انسان اِس قسم کے ٹکراؤ کا تحمل نہیں کرسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی مشین دو کاگ (cog) پر چل رہی ہے— ایک، ہیومن کاگ (human cog) اور دوسرا، ڈوائن کاگ (divine cog) ۔ ڈوائن کاگ کی اپنی ایک مقرر رفتار (pace) ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاگ کو بھی اُسی رفتار پر چلائے جو ڈوائن کاگ کی رفتار ہے۔ یہ واضح ہے کہ ڈوائن کاگ طاقت ور (strong) ہے اور ہیومن کاگ کمزور(weak) ۔ اگر انسان اپنے کاگ کی رفتار کو اپنی خواہش کے مطابق، چلانے لگے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ڈوائن کاگ تو اپنی جگہ باقی رہے گا، لیکن ہیومن کاگ یقینی طورپر ٹوٹ جائے گا۔ اِس کے نتیجے میں انسان کی زندگی ایسی تباہی سے دوچار ہوگی جس کی تلافی کسی بھی حال میں ممکن نہیں۔
خلاصۂ کلام
ہیومن رسپانسبلٹی کا مطلب ہے — ہیومن ڈیوٹی۔ حضرت مسیح نے کہا تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Render therefore to Caesar the things that are Caesar’s, and to God the things that are God’s. (Luke 20: 25)
other sourceWords of another person or source
یہی بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن الفاظ میں کہی ہے— أدّوا إلیہم حقہم، وسلوا اللہ حقکم (صحیح البخاری: رقم الحدیث: 7052 ):
hadithQuotes a hadith
Give to them what is due to them. And ask your dues from God.
یہ دونوں اقوال، فرد اور سوسائٹی کے درمیان صحیح تعلق کو بتاتے ہیں۔ فرد اور سوسائٹی کے درمیان صحت مند تعلق اُس وقت قائم ہوتاہے جب کہ فرد کے اندر رسپانسبلٹی کی اسپرٹ پوری طرح زندہ ہو۔ جب ایسا ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فرد کا فوکس اپنی ذمے داریوں پر ہوگا۔ فرد یہ چاہے گا کہ سوسائٹی کا جو حق اُس کے اوپر آتا ہے، اس کو وہ پوری طرح ادا کرے۔جہاں تک فرد کے اپنے حقوق کی بات ہے، وہ کسی مطالبے سے نہیں ملتے، بلکہ وہ خود اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ملتے ہیں۔ یہی اسپرٹ آف رسپانسبلٹی اِس بات کی ضامن ہے کہ فرد اور سماج کے درمیان ٹکراؤ کی صورتِ حال نہ پیدا ہو۔ صحت مند سرگرمیوں کے درمیان دونوں کا ارتقا فطری انداز میں جاری رہے۔ (20 دسمبر 2011)