زندگی میں ہمیشہ ناموافق حالات پیش آتے ہیں۔ اِس طرح کے ناموافق حالات کا تجربہ ہر ایک کو ہوتا ہے، خواہ وہ عام آدمی ہو یا کوئی بڑی حیثیت والا آدمی۔ اِس میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔
ناموافق حالات اُسی طرح زندگی کا حصہ ہیں جس طرح بھوک اور پیاس زندگی کا حصہ ہیں۔ ناموافق صورت حال کو اگر مسئلہ (problem) کہاجائے تو اِس سے منفی ذہن بنے گا۔ آدمی مایوسی کی نفسیات کا شکار ہوجائے گا۔ وہ پیش آمدہ مسئلے کو ایک غیر مطلوب صورت حال سمجھے گا۔ وہ اس کے مقابلے میں، مثبت منصوبہ بندی نہ کرسکے گا۔
صحیح بات یہ ہے کہ مسئلے کو ایک چیلنج سمجھا جائے۔ مسئلہ کا لفظ اگر ایک منفی لفظ ہے تو چیلنج کا لفظ ایک مثبت لفظ۔ چیلنج کیا ہے، چیلنج ایک مشکل صورتِ حال ہے جو کسی آدمی کی استعداد کا امتحان ہوتی ہے:
Challenge: a difficult task that tests somebody’s ability.
جب آپ کسی صورت حال کو چیلنج کی نظر سے دیکھیں تو آپ کے اندر مقابلے کا ذہن پیدا ہوگا۔ آپ کی ساری توجہ اِس پر لگ جائے گی کہ آپ پیش آمدہ صورتِ حال کو بے لاگ انداز سے دیکھیں اور اس کے مطابق، دانش مندانہ منصوبہ بندی کریں۔
یہ سوچ آپ کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرے گی۔ اِس سے آپ کے اندر شکایت کے بجائے مقابلے کا ذہن پیدا ہوگا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ آپ کسی کو پیش آمدہ صورتِ حال کا ذمّے دار قر ار دے کر اس سے نفرت کرنے لگیں۔ آپ کسی دوسرے کی تخریب میں اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے، بلکہ آپ مکمل طورپر اپنی تعمیر میں لگ جائیںگے۔ آپ ایسا نہیں کریں گے کہ کسی کو اپنا دشمن قرار دے کر اس کے خلاف تقریر وتحریر کے ہنگامے کھڑے کریں۔ آپ ایسے کسی معاملے کو فطرت کے نظام کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں گے، نہ کہ کسی دشمن کی سازش کے تحت پیش آنے والا واقعہ۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.