پچھلی قوموں کی تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر قوم کا یہ حال ہوا کہ اس نے ماضی کے پیغمبر کو مانا مگر اس نے اپنے ہم زمانہ پیغمبر کا انکار کردیا۔ مثلاً یہودی حضرت موسیٰ کو مانتے تھے مگرجب حضرت مسیح آئے تو انھوںنے مسیح کو ماننے سے انکار کردیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت مسیح کو مانا مگر انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کردیا۔ یہی تقریباً تمام قوموں کی گمراہی کا حال رہا ہے۔
یہی قوموں کااصل امتحان ہوتا ہے۔ ہر قوم اسی نفسیات میں مبتلا رہتی ہے۔ ہر قوم کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اس نفسیات سے باہر آئے، وہ اس معاملہ میں اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، وہ مصلحین کو ان کے جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانے، نہ یہ کہ وہ ماضی سے تعلق رکھتے ہیںیا حال سے۔ موجودہ مسلمان بھی مکمل طور پر اسی کمزوری میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے ماضی کے اکابر کی خوب تعریف کرتے ہیں، ان پر سیمینار کرتے ہیں، ان پر مضامین اور کتابیں شائع کرتے ہیں۔ ان کے نام پر ادارے بناتے ہیں وہ بڑے بڑے القاب کے بغیر ان کا نام نہیںلیتے۔ مگر یہی مسلمان حال کے مصلحین کو رد کردیتے ہیں۔ وہ اپنے معاصر دعاۃ اور مصلحین کو حقیر سمجھتے ہیں۔ وہ ان کا ساتھ دینے کے بجائے ان کو بدنام کرتے ہیں۔ یہی نفسیات مسلمانوں کی بربادی اور ناکامی کا اصل سبب ہے۔ مسلمان جب تک اپنے آپ کو اس نفسیات سے باہر نہیں لائیں گے ان کو نہ خالص سچائی ملے گی اور نہ وہ حقیقی معنوں میں کوئی بڑا کام کرسکیں گے۔
خدا پرست انسان وہ ہے جو اس قسم کی نفسیات سے بُلند ہو۔ خدا پرست آدمی کسی انسان کو اُس کی میرٹ کی بنیاد پر پہچانتا ہے، نہ کہ تاریخی روایات کی بنیاد پر۔ خدا پرست آدمی کی نظر معانی پر ہوتی ہے اور تاریخ پرست آدمی کی نظر صرف ظواہر پر۔ خدا پرست انسان چیزوں کو خدا کی نسبت سے دیکھتا ہے، اور غیر خدا پرست انسان چیزوں کو غیر خدا کی نسبت سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔