← Al-Risala June 2004Al-Risala June 2004
خبرنامہ اسلامی مرکز ۱۶۳
Urdu · 42 min read
۱۔ سہارا سمے (ٹی وی چینل) کی ٹیم نے ۳۰ اکتوبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ٹی وی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویور مسٹر ضمیر ہاشمی تھے۔ سوالات کا تعلق اسلام کے مختلف موضوعات سے تھا۔ مثلاً روزہ کے سماجی فوائد، اسلام میں جہاد کا حکم، وغیرہ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں تمام سوالات کے جواب دئے گئے۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام کی تعلیمات صرف ثواب و عذاب کی اصطلاح میں بیان کرنا کافی نہیں۔ علماء کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ جدید ذہن کو سمجھیں اور اسلام کی تعلیمات کو ایسے انداز میں بیان کریں جو آج کے انسان کے لیے قابل فہم ہو۔ جس کو سن کر آج کا انسان یہ سمجھے کہ اسلام موجودہ زمانہ سے بھی اتنا ہی تعلق رکھتا ہے جتنا کہ وہ پچھلے زمانہ سے تعلق رکھتا تھا۔
۲۔ جوہانسبرگ میں چینل اسلام انٹرنیشنل کے پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز نے ۱۵ منٹ کی ایک تقریر یکم نومبر ۲۰۰۳ کو انگریزی میں کی۔ یہ تقریر دہلی سے ٹیلی فون پر کی گئی جو جوہانسبرگ میں ریڈیو پر نشر کی گئی۔ اس کا موضوع اسلام اور پیس تھا۔
۳۔ انٹر ریلیجس اور انٹرنیشنل فیڈریشن فارورلڈپیس (IIFWP) کے زیر انتظام ایک تین روزہ سیمنار (۷۔۹ نومبر ۲۰۰۳) ہوا جس کا موضوع ’’لیڈرشپ‘‘ تھا۔ یہ سیمینار گڑگاؤں کے رزورٹ بسٹ ویسٹرن کورٹ کنٹری کلب میں منعقد کیاگیا۔ اس کا پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر مختصر اظہار خیال کیا۔
۴۔ اے آر وائی گولڈ (ریڈیو چینل) دبئی کے تحت مسٹر پرویز ہاشمی نے ۲۰ نومبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامک سنٹر کا ایک انٹرویو دبئی سے ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دو موضوع سے تھا— رویت ہلال اور جہاد۔ رویت ہلال کے بارے میں بتایاگیا کہ قرآن میں فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ کا لفظ آیا ہے۔ اس سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ رصدگاہ کی شہادت شرعی طورپر معتبر ہے۔ اس کو مان لیا جائے تو تمام نزاع اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔ جہاد کے بارے میں بتایاگیا کہ جہاد اسلام میں صرف دفاع کے لیے ہے اور اس کا حق صرف باقاعدہ حکومت کو حاصل ہے۔ موجودہ زمانہ میں جہاد کے نام سے جو غیر حکومتی سرگرمیاں جاری ہیں ان میں سے کوئی بھی شرعی جہاد نہیں ہے۔
۵۔ واردھا میں قائم شدہ انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز کے تحت مختلف مذاہب کا ایک سیمینار ہوا۔ یہ پانچ دن (۲۳۔۲۷نومبر ۲۰۰۳) تک جاری رہا۔ اس میں ہر مذہب کے لیے ایک دن خاص کیاگیا تھا۔ ۲۶ دسمبر کا دن اسلام کے لیے مخصوص تھا۔صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ ۲۶ دسمبر کے اس پروگرام میں تفصیل کے ساتھ اسلام کا تعارف پیش کیا گیا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۶۔ اہنسا ٹی وی (نئی دہلی) نے ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کاتعلق زیادہ تر اہنسا کے نظریہ سے تھا۔ جوابات میں بتایاگیا کہ اہنسا یا عدم تشدد فطرت کا ایک اُصول ہے۔ اس دنیا میں پُرامن طریق کار کے ذریعہ کام بنتے ہیں اور متشددانہ طریقِ کار کے ذریعہ کام بگڑ جاتے ہیں۔ اسلام میں تشدد کا استعمال صرف ناگزیر دفاع کے لیے جائز ہے۔ دفاع کے سوا کسی اور مقصد کے لیے تشدد ہر گز جائز نہیں۔ اسلام میں اصل اہمیت امن کی ہے۔
۷۔ اہنسا ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو مرکز میں آئی۔ اُس نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اہنسا (عدم تشدد) تھا۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کی تمام تعلیمات عدم تشدد کے اصول پر مبنی ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت تشدد کو پسند نہیں کرتی۔ اس لیے اسلام میں بھی تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جارحیت کی صورت میں ناگزیر ضرورت کے طورپر دفاعی جنگ جائز ہے۔ جب پُر امن طریقِ کار کا اُصول قابلِ عمل ہو تو ہر گز تشدد کا طریقہ استعمال نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ اسلام میں گوریلا وار، پراکسی وار، اعلان کے بغیر وار اور جارحانہ وار یہ سب سراسر ناجائز ہیں۔
۸۔ ہرمن روبنگھ(Herman Robongh) ایک برطانی اسکالر ہیں۔ آج کل وہ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے تحت ریسرچ کررہے ہیں۔ اُن کی ریسرچ کا موضوع مولانا حمید الدین فراہی کا اصول تفسیر ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز سے ملے اور مذکورہ موضوع پر تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مولانا حمید الدین فراہی نے بعض پہلوؤں سے قرآن کی خدمت کی ہے مگر ان کا یہ کہنا کہ نظم ، قرآن فہمی کی اصل کلید ہے، قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ۔اس لیے کہ یہ تصور نہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوتا ہے، نہ صحابہ کے اقوال سے اور نہ مفسرین کے اُصول تفسیر میں وہ ملتا ہے۔ مولانا فراہی کی یہ اجتہادی غلطی ہے کہ انہوں نے قرآن فہمی کے سلسلہ میں ایک جزئی پہلو کو کلّی اہمیت دے دی۔
۹۔ دہلی پیس سمٹ (Delhi Peace Summit) کی طرف سے نئی دہلی میں چنمیا مشن کے آڈیٹوریم میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس میں انڈیا کے علاوہ باہر کے ملکوں کے لوگ شریک ہوئے۔ اُس کا موضوع انٹرفیتھ ڈائیلاگ تھا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس کے ۸ دسمبر ۲۰۰۳ کے سیشن میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے درمیان اختلافات ہیں۔ اس کا فارمولا اسلام کی روشنی میں یہ ہے کہ —ایک کی پیروی کرو اور بقیہ کا احترام کرو: (Follow one and respect all) اگر بالفرض دو مذہبوں کے درمیان کسی وجہ سے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوجائے تو اُس کو ہمیشہ امن کے دائرہ میں ہونا چاہیے۔ اُس کو کسی بھی حال میں یا کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہیے۔ اس کانفرنس کی کارروائی پوری کی پوری انگریزی زبان میں ہوئی۔
۱۰۔ چنمیا مشن آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ۱۸۔۲۱ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس کا موضوع یہ تھا:
Religions in the Indic Civilisation
یہ کانفرنس سنٹر فار دی اسٹڈی آف ڈولپنگ سوسائٹیز ، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار دی ہسٹری آف ریلیجنس اور انڈیا انٹر نیشنل سنٹر کے تعاون سے کی گئی۔ ۲۱ دسمبر کے سشن میں اس کا موضوع تھا: مختلف مذاہب میں خدا کا تصور۔ اس سشن میں صدر اسلامی مرکز کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ پروگرام کے مطابق، انہوں نے گاڈ ان اسلام (God in Islam) کے موضوع پر آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتایا گیا کہ خدا کا تصور اسلام میں کیا ہے۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔ اس کانفرنس میں انڈیا اور باہر کے تقریباً ۵۰۰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ خواہش مند افراد کو انگریزی کتابیں برائے مطالعہ دی گئیں۔
۱۱۔ رام کرشنا مشن (نئی دہلی) میں ۲۶ دسمبر ۲۰۰۳ کو ایک سیمینار ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک ہوئے۔ اُس کا موضوع تھا: انٹرریلیجس فیلوشپ (Inter-Religious Fellowship)۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور وہاں اسلام کے نقطۂ نظر سے مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اُس کی تمام تعلیمات امن اور انسانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن وحدیث کے دوسرے حوالوں کے علاوہ اُنہوں نے ایک مسنون دعا سنائی اور اس کا انگریزی ترجمہ بتایا جس کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ وہ دعا یہ ہے: اللہم انت السلام و منک السلام والیک یرجع السلام ، حینا ربنا بالسلام و ادخلنا دارک دارالسلام، تبارکت ربنا و تعالیت یا ذا الجلال و الاکرام۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں ہوا۔
۱۲۔ ای ٹی وی (Enadu T.V.) کے اسٹوڈیو(Noida) میں ۲۸ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ٹی وی انٹرویو ریکارڈ کیاگیا۔ یہ آدھ گھنٹہ کے لیے تھا۔ اُس میں سوال و جواب کی صورت میں ’’حج کی حقیقت ‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیاگیا۔ آخر میں ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حج کے سلسلہ میں گورنمنٹ کی سبسڈی میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔ تمام مسلم ملکوں میں حاجیوں کو سفر حج پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ علماء نے اس کو درست مانا ہے۔ اس طرح سبسڈی موجودہ زمانہ میں ایک عُرف بن چکی ہے۔ اس عرف کے مطابق، انڈیا کی گورنمنٹ اگر حاجیوں کو سبسڈی دیتی ہے تو یہ بھی اُسی طرح درست ہے جس طرح مسلم ملکوں میں سبسڈی درست ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ہندستان کی حکومت غیر مسلم حکومت نہیں ہے، وہ ایک قومی حکومت ہے۔ انڈیا کے مسلمان یکساں بنیاد پر اس قومی اور جمہوری حکومت میں شریک ہیں۔
۱۳۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر جیندر کمار چودھری نے ۲۹ دسمبر ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس میں ہندو۔ مسلم تعلقات اور انڈیا اور پاکستان کے تعلق کے حوالہ سے بہت سے موضوعات زیر بحث آئے۔ اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ برصغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر کوئی بھی صحیح معنوں میں تعمیری لیڈر پیدا نہیں ہوا جو مثبت معنوں میں کوئی گہرا کام کرے۔ آج ہم اسی کمی کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ یہ بات ہندو اور مسلمان دونوں کے لیے درست ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہاگیا کہ علم کو صرف علم کے روپ میں دیکھنا چاہئے، علم کو ہندو اور مسلمان بنانا درست نہیں۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ ہندو یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی دونوں سے ہندو اور مسلم کا لفظ نکال دیا جائے اور اُس کو صرف بنارس یونیورسٹی اور علیگڈھ یونیورسٹی کہا جائے۔
۱۴۔ بی بی سی لندن(bbc.co.uk) کی طرف سے مسٹر طفیل احمد کے دستخط سے ایک خط مورخہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کے نام ملا۔ اس میں ایک مضمون کی فرمائش کی گئی تھی جس کو وہ بی بی سی لندن کے ویب سائٹ پر شائع کریں گے۔ یہ مضمون انگریزی میں ایک ہزار لفظ میں مطلوب تھا۔ اُس کا عنوان یہ تھا:
Relevance of Sufism in the Post -9/11 World
خط میںکہا گیا تھا کہ مضمون میں یہ بتایا جائے کہ کیا صوفی ازم مغرب اور اسلام کے درمیان دوری کو ختم کرسکتا ہے:
If Sufism has the possibility to bridge the widening gulf between the Islamic world and the west.
اس موضوع پر مطلوب مضمون تیار کرکے اُنہیں ۷ جنوری ۲۰۰۴ کو بھیج دیا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ دوری نام نہاد سیاسی اسلام نے پیدا کی ہے اور صوفی اسلام بلا شبہہ اس دوری کو ختم کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ صوفی ازم کو جدید تقاضوں کے ساتھ سامنے لایا جائے۔ اس آرٹیکل کو بی بی سی کی ویب سائٹ (bbc.co.uk) پر شائع کیا گیا۔
۱۵۔ ست سری، نئی دہلی میں ۱۵ ہزار گز کے ایریا میں جدید طرز پر ایک ہولسٹک سنٹر (Holistic Centre) بنایا گیا ہے۔ اس کے چئر مین ڈاکٹر بی کے مودی ہیں۔ اس کے افتتاح کے طورپر ۲ جنوری ۲۰۰۴ کو بڑے پیمانہ پر اس کے ہال میں ایک فنکشن کیاگیا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں اسلام کے نمائندہ کے طورپر بلایاگیا۔ وہاں مختلف مذہب کے لوگوں سے ملاقاتیں کیںاور ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں انہوں نے اسلام کے ریفرنس میں امن اور روحانیت کی اہمیت بیان کی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام مکمل معنوں میں امن کا مذہب ہے۔ اسلام کے نام پر تشدد کرنے سے کوئی تشدد اسلامی نہیں بن جاتا۔ تشدد ہر حال میں برا ہے۔ تشدد سے کبھی کوئی بہتر نتیجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔
۱۶۔ اٹلی کی ایک مذہبی تنظیم ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: Association Culture Yogarmonia ۔ اس کا صدر دفتر نوالے(Noale)میں ہے۔ اس کے چیر مین ایٹمبری ماریو (Atombri Morio) ہیں۔ اس تنظیم کے سات ذمہ داروں کا ایک وفد اپنے چیر مین کی قیادت میں۵جنوری ۲۰۰۴ کو اسلامی مرکز آیا اور تقریباً دو گھنٹہ رہا۔ اُنہوں نے اسلام اور روحانیت کے موضوع پر صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی بات کی۔ آخر میں اُنہیں ایک مسنون دعا سنائی گئی۔ اس کو اُنہوں نے بہت پسند کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس دعا کو ہم اپنے اجتماعات میں پڑھیں گے۔ اُن کی فرمائش کے مطابق، یہ دعا تین طریقہ پر لکھ کر اُنہیں دی گئی۔ عربی متن، عربی الفاظ کو رومن رسم الخط میںاور پوری دعا کا انگریزی ترجمہ۔ وہ دعا یہ تھی: اللہم انت السلام و منک السلام و الیک یرجع السلام۔ ربنا حیینا بالسلام و ادخلنا دارک دارالسلام۔ تبارکت ربنا و تعالیت یا ذا الجلال والاکرام۔
۱۷۔ ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے جو جلد ہی شائع ہوگی۔ تقریباً دو سوصفحہ کی اس کتاب کا نام حکمت اسلام ہے۔ اس میں قرآن اورحدیث کے حوالہ سے اسلام کی حکمتیں بیان کی گئی ہیں۔
۱۸۔ اسلامی مرکز کے تحت کچھ نئی کتابیں چھپی ہیں۔ ایک انگریزی کتاب کا نام ہے: اِن سرچ آف گاڈ۔ اور ایک اردو کتاب کا نام ہے:مطالعۂ حدیث۔
۱۹۔ آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اے ایم رضا نے ۱۴ جنوری ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ریڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ ’’صدائے سرحد‘‘ کے تحت تھا۔ سوال یہ تھا کہ حال میں ہند۔پاک تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے جو کوششیں ہوئی ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان بس اور ریل چلائی گئی ہے اُس پر کیا تاثر ہے۔ بتایا گیا کہ یہ کوششیں اچھی ہیں۔ مگر ان سے کسی بڑے نتیجہ کی امید نہیں۔ بڑے نتیجہ کے لیے زیادہ گہری بنیادوں پر فیصلہ لینا ہوگا۔
۲۰۔ ستیہ سائی انٹر نیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۱۴ جنوری ۲۰۰۴ کو ایک سیمینار تھا۔ اس میں ملک کے مختلف اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز کو یہ دعوت دی گئی کہ اس میں پانچ انسانی اقدار اسلام کی روشنی میں بتائیں۔ وہ اقدار یہ ہیں:
Truth, Right Conduct, Love, Peace, Non-violence.
اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو ایک گھنٹہ کا وقت دیا گیا تھا۔ اُنہوں نے تفصیل کے ساتھ مذکورہ موضوع پر قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کی۔
۲۱۔ آرنج، کیلی فورنیا (امریکا) میںایک اعلیٰ سطح کا ادارہ ہے۔ اُس کا نام یہ ہے:
Global Ethics and Religion Forum
اس ادارہ کی ایک ٹیم ۱۵ جنوری ۲۰۰۴ کو اسلامک سینٹر میں آئی۔ اُس میں ڈاکٹر جوسف رنزو(Joseph Runzo) اور ڈاکٹر نینسی ایم مارٹن(Nancy M. Martin) وغیرہ شامل تھے۔ وہ اسلام اور مسلمان کے بارہ میں صدر اسلامی مرکز کے خیالات جاننا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے ٹی وی چینل کے لیے صدر اسلامی مرکز کی ایک ٹاک ویڈیو پر ریکارڈ کی۔ یہ پوری ٹاک انگریزی میں تھی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ اس میں عصر حاضر کے حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا گیا۔ ٹیم کے افراد نے اس کو سُن کر بہت زیادہ پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس پوری ٹاک کے ویڈیو کیسٹ کی کاپی تیار کرکے وہ اسلامی مرکز کے لیے روانہ کریں اور اُس کو ایڈٹ کرکے اپنے ٹی وی چینل پر نشر کریں گے۔
۲۲۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) ک نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۱۵ جنوری ۲۰۰۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو زیادہ تر بابر ی مسجد کے مسئلہ پر تھا۔ اس سلسلہ میں مختلف حوالوں کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ۱۹۴۹ سے لے کر اب تک اس سلسلہ میں جو کوشش کی گئیں وہ سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس لیے اب اس معاملہ میں از سرِ نو نئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، ایسی پالیسی جو نتیجہ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہو۔
۲۳۔ دور درشن (نئی دہلی) میں ۱۹ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی پروگرام ریکارڈ کیا گیا جو ۲۵ جنوری کو دور درشن پر نشر کیا گیا۔اس کے تحت دور درشن کے اسٹوڈیو میں ایک اجتماع کیا گیا۔ اس میں اسٹیج پر اینکر کے علاوہ وشنوہری ڈالمیا (چیر مین وشو ہندو پریشد) اور صدر اسلامی مرکز کو بٹھایا گیا تھا۔ سامنے کی بنچوں پر تقریباً چالیس کی تعداد میں مسلمان موجود تھے۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا، عقیدہ کا تعلق عدالت سے ہے یا نہیں۔ اینکر کی طرف سے اور حاضرین کی طرف سے بہت سے سوالات کیے گئے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اجودھیا کے نزاعی معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ رام بھگوان کے اوتار تھے۔ یہ بلا شبہہ ایک عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ اس میں عدالت کو دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں۔مگر جب یہ کہا جائے کہ رام اجودھیا کے فلاں مخصوص مقام (spot) پر پیدا ہوئے تو یہ تاریخ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اب عدالت کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ اس نزاع کا فیصلہ تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر اُس کی بابت فیصلہ دے، اس سے قطع نظر کہ وہ کس کے خلاف ہے اور کس کے موافق۔
۲۴۔ ترکی کی باسفورس یونیورسٹی (استنبول) کے طلبہ کا ایک وفد ۷ فروری ۲۰۰۴ کو اسلامی مرکز میں آیا۔ اس کے قائد پروفیسر مارک لنڈلے(Mark Lindley) تھے۔ یہ لوگ جدید سیاق میں اسلام کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی گفتگو کی۔ ان کے سوالات کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا گیا۔ مثلاً ان کا خیال تھا کہ جدید حالات میں اسلام کے قانون پر نظر ثانی کی جائے تاکہ اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جاسکے۔ موجودہ زمانہ میں اس نسبت سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی ہیں وہ اسلام کی غلط تشریح کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ اسلام کو براہ راست قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ غلط فہمیاں بے بنیاد ثابت ہوں گی۔
۲۵۔ ۱۹ فروری ۲۰۰۴ کو بی بی سی لندن (ہندی) کی نمائندہ مسز ممتا گپتا نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ وہ لندن سے ٹیلی فون پربول رہی تھیں اور صدر اسلامی مرکز نے دہلی سے اس کا جواب دیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حضرت محمد سے پہلے مکہ اور مدینہ کا مذہب کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کا مصنف کون ہے۔ دونوں سوالوں کا جواب اسلامی تعلیم کی روشنی میں دیاگیا۔
۲۶۔ ۲۲ جنوری ۲۰۰۴ کو ہندی روزنامہ دینک بھاسکر (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر بجیندر کمار چودھری نے ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق عید الاضحی اور حج سے تھا۔ مختلف پہلوؤں سے اس پہلو کی وضاحت کی گئی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ عید الاضحی اور حج دونوں کا مشترک پیغام یہ ہے کہ اپنے جذبات، اپنے اہنکار کو قربان کرکے لوگوں کے درمیان جینا سیکھو۔ لوگوں کے ساتھ شانتی سے رہو۔ پیغمبر والی زندگی کو اختیار کرو۔
۲۷۔ ہمالیہ پریوار کی طرف سے ۲۲ فروری ۲۰۰۴ کو کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کا موضوع تھا: ہمالیہ کے علاقہ میں امن کس طرح قائم کیا جائے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور اسلام کی روشنی میں موضوع پر اظہار خیال کیا۔ مقررین میں دوسرے مقررین کے علاوہ مسٹر بلراج مدھوک بھی تھے۔ اسلام محبت کی تعلیم دیتا ہے۔ نفرت کی تعلیم نہیں۔
۲۸۔ ۲۶ فروری ۲۰۰۴ کو ٹائمس آف انڈیا کی نمائندہ مسز سکینہ یوسف خان نے صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ٹیلیفون پر ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو آنے والے الیکشن کے حوالہ سے مسلم پالیٹکس کے بارے میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلم عوام سادہ اور انّوسنٹ ہیں۔ مسلم معاملات کو بگاڑنے والے مسلم عوام نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے نااہل لیڈر ہیں۔ تاہم اب مسلم عوام اُنہیں چھوڑتے جارہے ہیں۔ مسلم عوام میں اب قدیم طرز کی منفی سیاسی سوچ ختم ہورہی ہے، اب اُن کے اندر مثبت سیاسی سوچ اُبھر رہی ہے۔ اور یہ ایک صحت مند علامت ہے۔
۲۹۔ امریکا سے خواجہ کلیم الدین صاحب کا ایک ای میل ملا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:
Recently I was browsing throug the internet under the name of Maulana Sahab. To my surprise I found Maulana's referemce over 400 to 700 times under various search engines. I collected various articles and interviews by Maulana Sahab. (January 28, 2004)
خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۶۴
۱۔ کناڈا سے مسٹر آصف کا خط مورخہ ۱۴؍فروری ۲۰۰۴ موصول ہوا۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے:
Last Sunday Feb. 8th. Noor Cultural Centre in Toronto had organized a lecture by Dr. Scott Kugle, a research scholar, Duke University, North Carolina. His Email address: Skugle1@swarthmore.edu
His topic of the lecture was: Non-violence in Qur'an. It was a very interesting and informative lecture. The audience thoroughly enjoyed it. From his lecture I assumed that Dr. Scott is a Muslim and has embraced Islam.
In his discourse he talked about the various personalities of India and Pakistan who preached the idea of Non-Violence in their struggles to remove British from India. He talked in detail about the lives and struggles of Maulana Abul Kalaam Azad and Abdul Gaffar Khan.
Then to my pleasant surprise he said, "There is a present day Muslim Scholar-Maulana Wahiduddin Khan-who is also in his books advocates non-violence. He said that Maulana Wahiduddin Khan has written many good books."
After the lecture I went to him and introduced myself. I said I teach Arabic once a week here at the Noor Cultural Centre and that we import books and sell them at cost price so that every one can easily afford them. I said that we import from Goodword Books almost all the books written by Maulana Wahiduddin Khan and they are always available with us and at the prices which are so affordable to everyone.
He was quite surprised to learn this. He has taken my email address. He said that when he comes to Toronto next time Insha Allah he will visit the new NON-PROFIT BOOKSTORE. (Asif, Cananda)
۲۔ ویکلی سہارا (نئی دہلی) کے سب ایڈیٹر محمد اصغرفریدی نے ۲ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر الیکشن اور مسلمان کے موضوع سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ الیکشن کے موقع پر کس پارٹی کو ووٹ دیا جائے اور کس پارٹی کو ووٹ نہ دیا جائے، اس کاتعلق عقیدہ یا مذہب سے نہیں ہے بلکہ ملّی مفادات سے ہے۔ یہ مفادات بھی ابدی نوعیت کے نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں احتجاجی سیاست بالکل بے معنٰی ہے:
Politics is an art of bargaining, rather than an art of protesting and complaining.
ایک بات یہ کہی گئی کہ جمہوری نظام میں کسی پارٹی کو سیاسی اچھوت بنانا کوئی مفید پالیسی نہیں۔ مزید یہ کہ الیکشن کے موقع پر لمبی مدّت کے لیے کسی ملّی مفاد کا حصول ممکن نہیں۔ ایسے موقع پر صرف محدود نوعیت کا کوئی مفاد حاصل کیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کی اس نوعیت کو لوگ اپنے ذاتی مفاد کے معاملہ میں خوب جانتے ہیں اور اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جب معاملہ ملّی مفاد کا ہو تو ہر آدمی بڑی بڑی تقریر کرنے لگتا ہے۔ اس قسم کی تقریریں صرف مقرر کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہیں۔
۳۔ مسٹر عرفان احمد، ایم اے ایمسٹرڈم یونیورسٹی میں سوشل سائنس ریسرچ کے تحت ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین کے نظریات و افکار کا مطالعہ کررہے ہیں تاکہ اس کی روشنی میں اپنا مقالہ مرتب کریں۔ اس سلسلہ میں وہ ۲ مارچ ۲۰۰۴ کو نئی دہلی میں صدر اسلامی مرکز سے ملے اور موضوع سے متعلق اُن کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین مثبت طرزِ فکر کے حامل نہ تھے، اُن کا فکر وقت کے سیاسی حالات کے ردّ عمل میں بنا۔ اس لیے یہ لوگ اسلام کی مثبت ترجمانی میںکامیاب نہ ہوسکے۔ سیاسی حالات ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔ صحیح اسلامی تفکیر وہ ہے جو وقتی حالات سے متاثر ہوئے بغیر اسلام کی دوامی تعلیمات کی روشنی میں بنائی جائے۔ اپنے اسی منفی فکر کی بنا پر موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اسلام کی کوئی مثبت خدمت نہ کرسکے۔
۴۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک مفتی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ جو مسلمان بندے ماترم میں شریک ہوں یا بی جے پی کا ساتھ دیں وہ خارج از اسلام ہیں۔اس کے جواب میں صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اس قسم کا قتویٰ لا نکفر من اہل القبلہ کے خلاف ہے۔
۵۔ دہلی پریس پرکاشن لمیٹڈ (نئی دہلی) کی طرف سے ایک انگریزی میگزین اَلائیو (Alive) کے نام سے نکلتا ہے (اس کا سابقہ نام کارواں تھا) اس میگزین کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر رام بلاس کمار نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم پالیٹکس سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ برصغیر ہند میں بد قسمتی سے ۱۰۰ سال سے بھی زیادہ مدت سے ایسے رہنما اٹھے جو صرف حالات کے رد عمل کی پیداوار تھے۔ چنانچہ ان کی سوچ منفی سوچ تھی۔ وہ ملت کو کوئی مثبت ایجنڈا نہ دے سکے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اب تک شکایت اور احتجاج کے احساس میں جیتے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر وہ ہمیشہ نگیٹیو ووٹنگ کرتے ہیں۔ یعنی کسی پارٹی کو اینٹی مسلم پارٹی فرض کرکے اس کے خلاف ووٹ دینا۔ ہمارا مشن یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ لائیں۔ دوسروں کی شکایت کے بجائے خود تعمیری کا مزاج پیدا کریں۔
۳۵۔ ایران کلچر ہاؤس اور ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) کے تعاون سے ۱۲ مارچ ۲۰۰۴ کو قرآنی علوم (Qur'anic sciences) پر ایک سیمینار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس میں ایک بات یہ بتائی کہ سائنسی تعلیم کی اہمیت صرف مادی ترقی کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ قرآن کو جدید تناظر میں سمجھنا اور جدید نسلوں کے لیے اسلام کو زیادہ قابل فہم بنانا، اس سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔
انجمن امن دوست انسان دوست(نئی دہلی) کے تحت راشٹر شکتی فاؤنڈیشن کا سالانہ جلسہ ۱۴ مارچ ۲۰۰۴ کو میر درد روڈ (مہندیان) میں ہوا۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی۔ اس جلسہ میں وہ بعض اسباب سے نہ جاسکے۔ البتہ انہوں نے ایک تحریری پیغام ان کے لیے بھیج دیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ آج کے ماحول میں انسان دوستی اور امن دوستی کا پیغام بے حد اہم ہے۔ تعمیری سماج بنانے کے لیے یہ دو بنیادی نکتے ہیں۔
۸۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۲ مارچ ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویوریکارڈ کیا۔ اُن کا خاص سوال یہ تھا کہ اخبارات (مثلاً ٹائمس آف انڈیا ۲۱ مارچ ۲۰۰۴) میں یہ خبر چھپی ہے کہ بی جے پی کے لیڈر مسٹر پرمود مہاجن کی رہائش گاہ (نئی دہلی) پر ایک میٹنگ ہوئی جس میں پرائم منسٹر کے اسپیشل سکریٹری مسٹر کُلکرنی بھی موجود تھے۔ اس میں آپ نے شرکت کی اور وہاں ایک تقریر کی۔ آپ کی اس شرکت کو بی جے پی کی حمایت کے معنٰی میں لیا جارہا ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ شرکت کوئی نئی بات نہیں تھی۔ یہ الرسالہ مشن کا ایک حصہ تھا۔ الرسالہ کا مشن یہ ہے کہ ہندستان میں ہندو۔ مسلم اتحاد پیدا کیا جائے۔ مسلمانوں میں دو قومی نظریہ کا ذہن ختم کیا جائے اور اس سوچ کو ختم کیا جائے کہ ہندستان دارالکفر یا دار الحرب ہے۔ بلکہ لوگوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ ہندستان دار الانسان ہے۔ کسی کو اینٹی مسلم قرار دے کر اُس سے کٹنا داعی کے لیے جائز نہیں۔ داعی ہر ایک کو مدعو کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ ہر ملک کو دار الدعوہ سمجھتا ہے۔ یہی الرسالہ کا مشن ہے اور یہ مشن پچھلے تیس سال سے یہاں چلایا جارہا ہے۔
۹۔ بی بی سی انگریزی (اسکاٹ لینڈ) کی ٹیم ۲۳ مارچ ۲۰۰۴ کو اسلامی مرکز میں آئی۔ اس کی قیادت مارک رچرڈ (Mark Richards) کررہے تھے جو کہ بی بی سی میں سینئر پروڈیوسر فیچرس ہیں۔ انہوں نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈکیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر صوفی اسلام اور اس سے تعلق رکھنے والے موضوعات سے تھا۔ مثلاً اسلام میں روحانیت کا تصور۔ اسلام میں میوزک اور قوالی کا تصور وغیرہ۔ جوابات کاخلاصہ یہ تھا کہ روحانیت اسلام کی اصل اسپرٹ ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر روحانیت اور ربانیت پیدا کی جائے۔ جہاں تک میوزک اور قوالی کا تعلق ہے اس کو کچھ صوفیاء نے رواج دیا۔ اس سے صوفیاء کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو اس کے ذریعہ سے اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ تاہم اس کے بارے میں دو رائیں ہیں۔ جہاں تک علماء کا تعلق ہے وہ میوزک اور قوالی وغیرہ کو پسند نہیں کرتے ۔ مگر صوفیاء اس کو روحانیت پیدا کرنے کے لیے ایک مددگار ذریعہ سمجھتے ہیں۔ (Tel.: 0141-3382721)
۱۰۔ رائٹر نیوز ایجنسی کی نمائندہ مز ماریہ ابراہام نے بمبئی سے بذریعہ ٹیلی فون صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندستانی مسلمانوں کی انتخابی پالیسی سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں میںاب بڑے پیمانہ پر نئی سوچ آئی ہے۔ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو زیادہ منصوبہ بند انداز میں کرنا چاہتے ہیں۔ یہ انٹرویو ۲۵ مارچ ۲۰۰۴ کو لیا گیا۔
۱۱۔ فکّی آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ۲۵ مارچ ۲۰۰۴ کو ایک عمومی جلسہ ہوا۔ اس میں مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اس جلسہ کا موضوع یہ تھا کہ مسلمانوں کی الیکشن پالیسی کیا ہو۔ صدر اسلامی مرکز نے بتایا کہ مسلمان اب تک زیادہ تر نگیٹیو ووٹنگ کرتے رہے ہیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ وہ پازیٹیو ووٹنگ کریں اور ملک میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں اور اپنے آپ کو تخلیقی اقلیت ثابت کریں۔
۱۲۔ ہندی روزنامہ دینک جاگرن (نئی دہلی) کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر راج کشور نے ۳۱ مارچ ۲۰۰۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ مسلمانوں کی انتخابی پالیسی کیا ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی انتخابی پالیسی اب کسی قدر بدلی ہے۔ مگر ابھی بہت زیادہ نہیں بدلی ہے۔ مسلمانوں کے اندر منفی سیاست کا رجحان ختم کرکے مثبت سیاست کا رجحان لانے کے لیے لمبے کام کی ضروت ہے۔
۱۳۔ انگر یزی میگزین ٹائم (Time) کے کرسپانڈنٹ مسٹر اروند ادیگا (Aravind Adiga) نے ۴ اپریل ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر جدید دنیا اور مسلمان سے متعلق تھا، مثلاً اجتہاد اور ریفارم اور جہاداور مسلم اور غیر مسلم کے تعلقات اور مغربی دنیا کے بارے میں مسلمانوں کا نقطۂ نظر، وغیرہ۔ سوالات کے جواب میں انہیں بتایاگیا کہ بہت سی چیزیں جن کو مغربی میڈیا میں منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کو اسلام سے منسوب کیا جاتا ہے وہ در اصل مسلمانوں کا اپنا فعل ہے نہ کہ اسلام کی اصولی تعلیم ۔ دوسری قوموں سے مسلمانوں کی نفرت سراسر غیر اسلامی ہے کیوں کہ اس قسم کی نفرت اسلام میں جائز ہی نہیں۔ آج کل جہاد کے نام پر جو تشدد کیا جارہا ہے وہ بھی غیر اسلامی ہے کیوں کہ اسلام میں مسلح جہاد صرف حکومت کا حق ہے نہ کہ عوام کا حق ۔دوسرے ممالک ہمارے لیے دار الحرب یا دار الکفر نہیں ہیں بلکہ وہ دار الانسان ہیں۔
۱۴۔ سہارا ٹی وی (نئی دہلی) کے ایک پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز نے اس کے ایک پینل ڈسکشن میں حصہ لیا۔ اس کا موضوع الیکشن کے حوالہ سے مسلمان اور پالیٹکس تھا۔ اس میں چار افراد نے حصہ لیا۔ یہ پروگرام ۱۶ اپریل ۲۰۰۴ کو ہوا۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایاگیاکہ مسلمانوں میں اب ایک نئی سیاسی سوچ اُبھررہی ہے۔ وہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ نگیٹیو ووٹنگ کا طریقہ صحیح نہیں۔ نیز یہ بھی صحیح نہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو مسلم دشمن اور مسلم نواز کے اعتبار سے بانٹا جائے۔الیکشن میں جمہوریت کی اسپرٹ کے تحت حصہ لینا چاہیے۔ اسی میں ملک کا بھی فائدہ ہے اور اسی میں مسلمانوں کا فائدہ بھی۔
۱۵۔ اچاریہ سوشیل کمار آشر م (نئی دہلی) میں ۱۸ اپریل ۲۰۰۴ کو ایک جلسہ ہوا۔ یہ مختلف مذاہب میں امن کے اشو پر تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ان اللہ یعطی علی الرفق ما لا یعطی علی العنف کی روشنی میں بتایا کہ خدا کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں صرف امن کا طریقہ ہی موثر اور نتیجہ خیز ہے۔ تشدد کا طریقہ کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں پیدا کرسکتا۔
۱۶۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) میں ۲۴ اپریل ۲۰۰۴ کو ایک پینل ڈسکشن تھا۔ اس میں کئی لوگ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ مسلمان اور جدید میڈیا پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا سے شکایت کرنا بے فائدہ ہے۔ میڈیا ایک انڈسٹری ہے۔ اپنے انٹرسٹ کے تحت وہ سافٹ نیوز کو چھوڑتا ہے اور ہارڈ نیوز کو لیتا ہے۔ خود مسلمان ان مسلم افراد کی مذمت کریں جو اسلام کے نام سے تشدد کرتے ہیں اور میڈیا کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں۔
۱۷۔ ہندی روزنامہ ہندستان (نئی دہلی) کے رپورٹر فضل غفران نے ۲۵ اپریل ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر تعلق مسلمان اور الیکشن سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ سیاست کوئی عقیدہ کی چیز نہیں۔ وہ عملی زندگی کا ایک مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملی اور مذہبی مقاصد کو خود اپنے اداروں کے تحت حل کریں۔ سیاست میں انہیں نیشنل اسپرٹ کے ساتھ حصہ لینا چاہیے۔ ان کو چاہیے کہ وہ پولیٹکل پارٹی کو سپورٹ دیتے ہوئے پورے ملک کے مفاد کو سامنے رکھیں۔ ملک کے سیاسی اور اقتصادی مفاد ہی میں مسلمانوں کا سیاسی اور اقتصادی مفاد بھی ہے۔ کسی پولیٹکل پارٹی کو پرومسلم اور کسی پولیٹکل پارٹی کو اینٹی مسلم قرار دے کر اپنا سیاسی پروگرام بنانا جمہوریت میں قابل عمل نہیں۔
۱۸۔ نئی دہلی کے میگزین آؤٹ لک (ہندی ایڈیشن) کی نمائندہ مزگیتا شری نے ۲۷ اپریل ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم سیاست سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ انڈیا میں جو پولیٹکل پارٹیاں ہیں ان کو پرومسلم اور اینٹی مسلم میں بانٹنا درست نہیں۔ یہ جمہوری اسپرٹ کے خلاف ہے۔ ہر پارٹی کا اپنا سیاسی انٹرسٹ ہے۔ کوئی بھی پارٹی اینٹی مسلم پارٹی نہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ملک کے تمام لوگوں کو انسان سمجھیں۔ الیکشن کے موقع پر ووٹ دینے میں وہ ملک کے انٹرسٹ کو سامنے رکھ کر ووٹ دیں۔ نہ کہ اس نظریہ کے تحت کہ فلاں پارٹی اینٹی مسلم ہے اور اس کو ہمیں ہرانا ہے۔
۱۹۔ انڈیا ٹوڈے (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر منوج ورما نے ۲۷ اپریل ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر انتخابی سیاست اور مسلمان سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے حالات کے اعتبار سے اس قسم کی سیاست کا تحمل نہیں کرسکتے کہ وہ ایک پولیٹکل پارٹی کو پرومسلم اور دوسری پولیٹکل پارٹی کو اینٹی مسلم ڈکلیر کریں اوراس کے مطابق اپنی سیاست چلائیں۔ انہیں ہر پولیٹکل پارٹی کو انسان پارٹی کی حیثیت سے لینا ہے۔ انہیں منفی سوچ کو چھوڑ کر مثبت سوچ کے تحت اپنی پالیسی بنانا ہے۔ دوسری بات یہ کہی گئی کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ ان کی تعلیمی پس ماندگی ہے۔ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھایا جائے۔ اس کے بغیر ان کا کوئی مسئلہ حل نہ ہوگا۔ بیلٹ باکس سے ان کی قسمت بر آمد نہیں ہوسکتی۔
۲۰۔ ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار ساہ (Sanjay Kumar) نے ۲۸ اپریل ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق عید میلاد النبی سے تھا۔ جواب میں بتایاگیا کہ عید میلاد النبی در اصل ہندوؤں کے تہوارجنم اسٹمی کی نقل ہے۔ اسلام میں صرف دو تہوار ہیں —عید الفطر اور عیدالاضحی۔ ان کے سوا جو اور تہوار مسلمان مناتے ہیں وہ ان کا اپنا رواج ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم نہیں۔(Tel. 9899237833)
۲۱۔ ہندی روزنامہ نو بھارت ٹائمز کے نمائندہ مسٹر سنجے ورما نے ۲۸ اپریل ۲۰۰۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ الیکشن اور اس میں مسلمانوں کا حصہ کے بارے میں تھا۔ جوابات کے دوران بتایا گیا کہ آج کل بعض نام نہاد مسلم رہنما جو اپیل کررہے ہیں کہ مسلمان بی جے پی کوووٹ دیں اس کا کوئی اثر عملی طور پرہونے والا نہیں۔ اس لیے کہ یہ نام نہاد رہنما وہی ہیں جو اس سے پہلے برابر یہ کہتے رہتے ہیں کہ بی جے پی مسلم دشمن پارٹی ہے اور مسلمانوں کو اسے ہرانا ہے۔ ایسی حالت میں ان کی یہ نئی بات اسی وقت موثر ہوسکتی ہے جب کہ وہ اپنی موجودہ اپیل سے پہلے یہ اعلان کریں کہ اس سے پہلے ہم نادانی میں مبتلا تھے، اب ہم کو سمجھ آئی ہے۔اپنی غلطی کا اعتراف کئے بغیر اس قسم کی اپیلوںکی کوئی اہمیت نہیں۔ کوئی بھی مسلمان موجودہ حالت میں اس کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتا۔ اپیل کرنے والا جب اپنی اپیل کی کوئی معقول وجہ نہ بتار ہا ہو تو اس کوسننے والے کیوں کر اسے اہمیت دے سکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے اندر منفی سیاست کا ذہن پیدا کیا ہے ۔ اب اسی ذہن کو مثبت سیاست پر لانے کے لیے کوئی معقول وجہ بتانی پڑے گی۔ محض موجودہ قسم کی اپیل اس معاملہ میں موثر نہیں ہوسکتی۔
۲۲۔ نئی دہلی کے ای ٹی وی (Eenadu TV) کی ٹیم نے ۲مئی ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا موضوع عید میلاد النبی تھا۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا کہ عید میلادالنبی کو ئی اسلامی تیوہار نہیں وہ مسلمانوں کا اپنا ایک رواج ہے۔ دورِ اول میں اس کا کوئی وجود نہ تھا۔ عرب ملکوں میں اب بھی اس قسم کا تیوہار نہیں منایا جاتا۔ یہ زیادہ تر ہندستان اور پاکستان میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر جلوس وغیرہ کے جو ہنگامے کئے جاتے ہیں وہ تو درست نہیں البتہ اگر اس دن سیرت کے عنوان پر جلسہ کیا جائے اور پیغمبر اسلام ﷺ کا أسوہ لوگوں کو بتایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
۲۳۔ بی بی سی لندن سے ۳ مئی ۲۰۰۴ کو ایک ریڈیائی ڈسکشن کا پروگرام تھا۔ ایک صاحب (وسعت اللہ خاں) لندن سے بول رہے تھے، ایک صاحب (سید منور حسین ) کراچی سے بول رہے تھے۔ اور صدر اسلامی مرکز دہلی سے بول رہے تھے۔ موضوع تھا: دور جدید میں اجتہاد—تینوں ایک دوسرے کی آواز سن رہے تھے۔ صدر اسلامی مرکز نے بتایا کہ اجتہاد ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس کو کسی بھی حال میں موقوف نہیں کیا جاسکتا۔
۲۴۔ نئی دہلی کے جین ٹی وی (Jain TV) کے اسٹوڈیو میں ۴ مئی ۲۰۰۴ کی شام کو ایک ڈسکشن کا پروگرام ہوا۔ا س میں اینکر(Anchor) کے علاوہ دو آدمی شریک تھے، صدر اسلامی مرکز اور کانگریس کے سینئر لیڈر سید جعفر شریف۔ اس کا موضوع انڈیا کے جنرل الیکشن مئی ۲۰۰۴ میں مسلمانوں کی انتخابی پالیسی تھا۔موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ میں کسی سیاسی پارٹی کا ایڈوکیٹ نہیں۔ میرا ایک روحانی مشن ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمان کس کو ووٹ دیں اور کس کو ووٹ نہ دیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان نگیٹیو ووٹنگ کو چھوڑ دیں اور پازیٹیو ووٹنگ کا طریقہ اختیار کریں۔ مسلم مسائل کو انتخابات کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔ الیکشن میں نیشنل انٹرسٹ کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسی بنانی چاہیے۔ سید جعفر شریف نے اپنی تقریر میں صدر اسلامی مرکز کے نقطۂ نظر کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک بڑے عالم دین ہیں۔ہم سب لوگ ان کے قدر داںہیں۔ ان کو کسی ایک سیاسی حلقے سے جوڑنا صحیح نہیں۔ وہ سارے ملک کے لیے قابل احترام بزرگ ہیں۔
۲۵۔ الہدیٰ انٹرنیشنل کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے دبئی (عرب امارات) کا سفر کیا۔ یہ سفر ۵مئی کو شروع ہوا اور ۱۰ مئی ۲۰۰۴ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔
۲۶۔ کشمیر نیوز سروس کے نمائندے مسٹر ماجد جہانگیر اور ان کے ساتھی ۱۳ مئی ۲۰۰۴ کو اسلامی مرکز میں آئے اور ٹیپ ریکارڈر پر صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق ان موضوعات سے تھا:اسلام، مسلمان، کشمیر، تعلیم ۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی جڑ تعلیم میں ان کی پسماندگی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دیں۔
۲۷۔ کشمیر نیوز سروس (سری نگر) کی ٹیم مسٹر ماجد جہانگیر کی قیادت میں ۱۳ مئی ۲۰۰۴ کو مرکز میںآئی۔ انہوں نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ٹیپ ریکارڈر پر ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کا مسئلہ خارجی نہیں داخلی ہے۔مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ موجودہ زمانہ میں تعلیم میں پیچھے ہوگئے اسی سے ان کے تمام مسائل پیدا ہوئے۔ کشمیر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ کسی آئیڈیلزم کے تحت طے نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملہ میں لوگوں کو حقیقت پسند بننا ہوگا اور اس معاملہ میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ جغرافی اعتبار سے اس کا جواسٹیٹس کو (status quo) بن گیا ہے اس کو مستقل حالت کے طورپر مان لیا جائے۔
۲۸۔ نئی دہلی کے میگزین لائف پوزیٹیو (Life Positive) کی خاتون ایڈیٹر مز سواتی چوپڑا (Swati Chopra) نے ۲۱ مئی ۲۰۰۴ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع موت تھا۔ یعنی اسلام میں موت کا تصور ۔ یہ انٹرویو وہ اپنے میگزین کے خصوصی شمارہ میں شائع کریںگی۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام کے مطابق موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ وہ عارضی زندگی سے نکل کر ابدی زندگی میں داخل ہونا ہے۔ اسلام کے مطابق موجودہ عارضی زندگی امتحان کے لیے ہے۔ امتحان کی مدت پوری ہونے کے بعد آدمی کو موت دی جاتی ہے تاکہ وہ اگلی زندگی میںاپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کیا جائے۔ مزید یہ بتایا گیا کہ موت کے ساتھ احتساب (accountability) کا تصور جڑا ہوا ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ اس کو صرف ایک محدود مدت تک کی آزادی ہے۔ اس کے بعد وہ خدا کی عدالت میں اپنے عمل کا حساب دینے کے لیے حاضر کردیا جائے گا۔ یہ تصور آدمی کے لیے برائی کے خلاف چیک کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ صحیح زندگی گزارے تاکہ وہ ابدی زندگی میں کامیابی سے محروم نہ ہو۔
۲۹۔ نوئڈا کے اسپورٹس اینڈ کلچرل کلب(Sports and Cultural Club) میں ۲۱ مئی ۲۰۰۴ کو ایک ڈسکورس کا پروگرام ہوا۔ اس میں ایک سو کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کا موضوع تھا: مذہب کے دس آفاقی اصول۔ ہر مقرر کو دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ سوامی گوکل آنند نے ہندوازم کے دس اصول بتائے۔ فادر ڈومینیک امینول نے مسیحیت کے دس اصول بتائے۔ صدر اسلامی مرکز نے اسلام کے دس اصول بتائے۔ یہ دس اسلامی اصول یہ تھے—انسانی اخوت، مذہبی ٹالرینس ، صلح اور ایڈجسٹمنٹ، پڑوسی کو تکلیف نہ دینا، نرمی کا طریقہ، تواضع، لایعنی کام نہ کرنا، بڑے شر سے بچنے کے لیے چھوٹے شر کو گوارا کرنا، غصہ اور انتقام نہیں، پر امن طریقۂ کار نہ کہ پرتشدد طریقۂ کار۔ یہ پورا پروگرام انگریزی میں تھا۔ سامعین نے بہت زیادہ پسند کیا۔ سامعین میں ہر مذہب کے لوگ شریک تھے۔ تقریر کے بعد سوال و جواب ہوا۔ حاضرین کو اسلام کے موضوع پر چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی دی گئیں۔
۳۰۔ نئی دہلی کے منداکنی انکلیو کے علاقہ میں این آرآئی کامپلیکس (N. R. I. Complex) میں ۲۳مئی ۲۰۰۴ کو تعلیم یافتہ مسلمانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس اجتماع میں صدر اسلامی مرکز کو تقریر کے لیے یہ عنوان دیا گیا تھا:
How to strike a balance between materialism and spirituality.
انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اسلام میں رہبانیت کا تصور نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مادی دنیا میں رہتے ہوئے روحانیت کو حاصل کیا جائے۔ اسلام میں روحانیت کا ذریعہ توسم ہے۔ یعنی مادی چیزوں سے روحانیت اور ربانیت کا سبق لینا۔ مادی تجربہ کو روحانی تجربہ میں کنورٹ کرنا۔ توسم کی اس صلاحیت کے لیے آدمی کو اپنے آپ کو تیار کرنا پڑتا ہے۔
۳۱۔ مرکزی سیاسی لیڈر پرمود
مہاجن کی رہائش گاہ (نئی دہلی) پر ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں زیادہ تر مسلم دانشور شریک ہوئے۔اس کو مسٹر سدھیندر کلکرنی کی طرف سے آرگنائز کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع الیکشن اور مسلمان تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندستانی مسلمان عام طور پر الیکشن کے موقع پرنگیٹیو ووٹنگ کرتے رہے ہیں۔ وہ انڈیا کی سیاسی پارٹیوں کو پرومسلم اور اینٹی مسلم میں بانٹتے ہیں۔ یہ منفی سیاست مسلمانوں کے لیے تباہ کن ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اس پر نظر ثانی کریں اور مثبت سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔
ماہنامہ الرسالہ کاانگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہورہا ہے۔ایڈیشن کانام دی اسپریچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
دی اسپریچول میسیج، فی کاپی 15/- روپئے، سالانہ 165/- روپئے۔
۴۵۔ امید کہ مزاج بخیر ہوگا۔ ۹۹ ء میں آپ کو ایک خط لکھا تھاآپ نے جواب میں تحریر فرمایا تھا کہ فخر نہ ہو۔ خط پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ شاید میں نے کوئی ایسی بات لکھ دی تھی جس کی بنا پر آپ نے یہ نصیحت کی۔ ۱۹۹۸ء سے مسلسل آپ کی کتابوں کو پڑھتا ہوں مزید یہ کہ تذکیر القرآن ایک مرتبہ ختم کرچکا ہوں تقریباً تین سال لگے۔ اور دوسری مرتبہ میں اب تک ۲۲ پارہ ہوچکا ہے۔ سلسلہ وار پڑھنے کے علاوہ دن میں بھی کئی مرتبہ مختلف جگہوں سے دیکھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔ مسلسل پڑھنے کی وجہ سے اندازہ ہوا کہ ہمارا مرض در اصل فخر ہے اور یہ کوئی اتفاقی بات آپ نے تحریر نہیں کی تھی بلکہ حقیقت کی ترجمانی۔ ایسے امراض سے اپنے آپ کو بچانے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ میں یہاں وسئی (تھانہ مہاراشٹرا) میں امام ہوں(Tel. 0-9822196889)۔۰ ۱۹۹ میں دیوبند کی فراغت ہے۔مگر اپنے آپ کو اس سے کبھی مستثنی نہیں سمجھا کہ میں تو عالم ہوں اور مجھے اصلاح کی ضرورت نہیں۔ بلکہ عالم ہونے کے باوجود سچ پوچھئے تو صبر وشکر، در گذر، معافی، معاملہ فہمی وغیرہ جیسی اسلام کی بے شمار تعلیمات اور خوبیاں آپ کی تحریروں سے مجھے معلوم ہوئیں۔ داعیانہ جذبہ تھا اس لیے مجھے سمجھنے میں بہت آسانی ہوئی اور آپ کی تحریروں سے صحیح رہنمائی ملی۔ یہ اللہ کا مجھ پر بڑا فضل و احسان ہے۔ ان باتوں کی طرف لوگوں کی بھی رہنمائی کرتا ہوں۔ کافی لوگ بنیادی مقاصد سے آگاہ ہونے لگے۔ جس بنیادی تعلیمات سے مسلمان کوسوں دور ہوگئے تھے عامۃ الناس کے ساتھ خواص بھی، یہ آپ کی خصوصیت ہے کہ آپ نے اس کی طرف لوگوں کی رہنمائی بالکل بروقت اور ابتداء سے کی۔ آپ کی تحقیق، تجزیہ رہنمائی بالکل صحیح سمت میں ہے اور عین قرآن و سنت کی روشنی میں ہے۔ موجودہ طریقۂ کار آپ کی نایاب دریافت ہے چودہ سو سال پہلے کی اور میری دریافت آپ ہیں۔
آپ کی اس تحریک سے بہت لوگ نالاں ہیں جس کا اظہار اکثر اخباروں میں رکیک الزامات کے ذریعہ وہ کرتے ہیں۔ انہیں الزامات میں سے ایک الزام مضمون کی شکل میں یہاں اردو ٹائمز میں شائع ہوا تھا’’مولانا وحید الدین خاں صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان بھی ہے‘‘ اس میں بے شمار الزامات لگائے گئے تھے۔ عبارت کی کتر و پیوند کے ساتھ۔ پڑھنے کے بعد طبیعت نہیں مانی اور خدا کے سامنے مسئولیت کے خوف نے اپنی حیثیت کے مطابق اس بات پر آمادہ کیا کہ اس کا جواب لکھا جائے۔ جواب لکھا اور اسی اخبار میں دیا۔ دومہینہ کی تاخیر سے انہوں نے اشاعت کی۔ لوگ بہت خوش ہوئے۔ کئی ایک فون آئے۔ اب تک کوئی تردیدی مضمون دو مہینے گذر گئے نہیں آیا اور نہ ہی کسی کا فون آیا۔ میں نے فون نمبر اسی غرض سے دیا تھا کہ اگر کسی کو کچھ سوال کرنا ہو تو کرسکے اور ذہن کی صفائی ہوجائے۔ اب لوگوں نے دوسرا رخ اختیار کرلیا ہے اور وہ ہے سیاسی میدان۔ یہاں سے لوگ شدومد کے ساتھ الزامات لگارہے ہیں اور اخبار والے اپنی دکان چمکا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ لوگوں کی غلط رہنمائی کررہے ہیں۔ اگر یہ درست کہ آپ نے
اٹل بہاری واجپئی کی حمایت کی ہے تو مجھے اس کی معقولیت میں ذرا بھی شک نہیں۔ ممکن ہے اس طرح مسلمانوں کا سیاسی استحصال بند ہوجائے اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے کم ہوں اور سابقہ لوگوں کا قائم کیا نفرت کا ماحول ختم ہو اور ملک بھی گندی سیاست سے نجات پا جائے اور مدعو قوم کا اعتماد بحال ہو۔ ورنہ اس ملک کو سیاسی استحکام نہ ملنے کی بنا پر کوئی تباہی سے نہیں بچا سکتا اور خود مسلمانوں کی تباہی بھی یقینی ہے۔ اقتدار پاکر وہ اس ملک کو اسپین اور اسرائیل بنا دیں گے، ایسا خیال کرنا قرآن و سنت ، خدا اور پیغمبر کی نفی کرنا ہے۔ اور بقیہ حالات سب ٹھیک ہیں۔ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے استقامت عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو صحیح سمت میں آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (مولاناعبد السبحان خاں، تھانہ، مہاراشٹرا)