Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala June 2004
Al-Risala June 2004

سید جمال الدین افغانی

Urdu · 5 min read

روزنامہ نوائے وقت کا شمارہ ۷ مئی ۲۰۰۴ دیکھنے کو ملا۔ اس میں ایک مضمون سید جمال الدین افغانی کے بارہ میں تھا۔ اس کے لکھنے والے ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی تھے۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سید جمال الدین افغانی جب مصر آئے تو یہاں ان کا بہت استقبال کیا گیا۔ یہاں وہ تقریباً ۹ سال تک رہے۔ ’’قاہرہ کے زمانۂ قیام میں انھوں نے جامعہ الازہر میں فقہ، حدیث، فلسفہ اور تصوف پر لیکچر دینا شروع کیا۔ یہ لیکچرز انتہائی ذوق و شوق سے سنے جاتے اور ایک ایک لفظ قلم بند کیا جاتا۔ سید جمال الدین افغانی قدیم علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی بنیادی باتو ںسے بھی طلبہ کو روشناس کراتے۔ ان انقلابی اقدام کے باعث بعض قدامت پرست علماء ناک بھوں چڑھاتے اور ان کی جدت پسندی کو بدعت سے تعبیر کرتے۔ مثلاً جغرافیہ کا لیکچر دیتے وقت سید جمال الدین افغانی گلوب (globe) کا استعمال کرتے اور اس کے ذریعہ طلبہ کو سمجھاتے۔ یہ چیز ان علماء کے لئے بالکل نئی تھی۔ تاہم وہ علّامہ کی علمی عظمت کے سامنے خاموش رہتے اور یہ بدعتیں برداشت کرلیتے۔‘‘

سید جمال الدین افغانی ۱۸۳۸ میں اسعد آباد میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۷ میں ان کی وفات ہوئی۔ اُس زمانہ میںمسلم علماء کا حال کیا تھا، اُس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں ملتی ہے۔ اُس زمانہ میںمسلم علماء کی فکری محدودیت اتنی زیادہ بڑھی ہوئی تھی کہ وہ گلوب جیسی چیز کے تعلیمی استعمال کو بھی ایک بدعت سمجھتے تھے۔ حالاںکہ جغرافی گلوب جیسی چیز کا بدعت سے کوئی تعلق نہیں۔ بدعت دراصل تعبدی امور میں نئی چیز نکالنے کا نام ہے۔ جہاں تک دنیوی امور (مثلاً جغرافی گلوب) کا تعلق ہے وہ ضروریاتِ انسانی کے تابع ہے۔ ان معاملات میں جو چیز بھی انسان کے لیے مفید ہو اس کو اختیارکرنا عین جائز ہوگا۔

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ سید جمال الدین افغانی نہایت ذہین آدمی تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوںنے بہت سے ملکوں کاسفر کیا تھا۔ مگر اس تمام مطالعہ اور مشاہدہ کا نتیجہ صرف یہ نکلاکہ وہ انگریزوں کے دشمن بن گئے جو اس زمانہ میں نو آبادیاتی توسیع کے گویا امام بنے ہوئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس مقصد کے لیے وقف کردی کہ وہ مسلم دنیا سے انگریزکے سیاسی کنٹرول کا خاتمہ کردیں۔

منفی سوچ کسی گہری حقیقت کو سمجھنے میں مانع بن جاتی ہے۔ اس اصول کی ایک واضح مثال سیدجمال الدین افغانی ہیں۔ وہ نو آبادیاتی دور کے مثبت پہلو کو سمجھ نہ سکے۔ اصل یہ ہے کہ یہ قانون فطرت کا ایک معاملہ تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی سیاسی توسیعات کا دور شروع ہوا جو کئی صدی تک جاری رہا۔ یہ اس دور کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) تھا جس نے دنیا کو جھنجھوڑا اور اس کو توہماتی دور سے نکال کر آزادی کے دور میں پہنچایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزار سال پہلے اگر مسلمانوں کی سیاسی توسیعات کا واقعہ پیش نہ آتا تودنیا بند ماحول سے نکل کر کھلے ماحول تک نہ پہنچتی۔

اسی طرح نشأۃ ثانیہ (renaissance) کے بعد مغرب کی نو آبادیاتی توسیع کا جو دور شروع ہوا وہ بھی فطرت کی اسکیم کے مطابق تھا۔ دوبارہ یہ ایک شاک ٹریٹمنٹ تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو روایتی دور سے نکال کر اس کو سائنسی دور میںپہنچایاجائے۔ فطری قانون کے زور پر یہ کام بہر حال انجام پایا۔ مگر جہاں تک مسلم رہنمائوں کا تعلق ہے وہ فطرت کی اس اسکیم سے مکمل طور پر بے خبر رہے۔ انھوںنے انتہائی بے خبری اور بے شعوری کے تحت ان مغربی طاقتوں سے نفرت کی اور ان کے خلاف ایک بے معنیٰ جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ فطرت کی اسکیم کے خلاف تھی۔ چنانچہ وہ حبط اعمال کا شکار ہوگئی۔ جان و مال کی بے شمار قربانیوں کے باوجود اس کاکوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔

مزید عبرت کی بات یہ ہے کہ انہی مغربی قوموں کی بنائی ہوئی دنیا میں جاکر آج کی مسلم نسلیں ہر قسم کے مادی فائدے حاصل کر رہی ہیں۔ جب کہ ان کے باپ اور دادا ان مغربی قوموں کو اسلام کا دشمن بتاکر اس کو ایمان کے منافی سمجھتے تھے کہ ان سے کسی قسم کی قربت یا تعاون کیا جائے۔ غلط رہنمائی کی جو مثال موجود ہ زمانے کے مسلم رہنمائوں نے پیش کی ہے اس کی کوئی دوسری مثال پوری انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ اس قسم کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کا انجام اولاً تباہی ہوتاہے اور آخر میں منافقت۔

مجھے اپنی نوجوانی کی عمر کا تجربہ یا د آتا ہے۔ اُتر پردیش میں ہمارے گاؤں کے قریب سے ریلوے لائن گذرتی تھی۔ یہ ریلوے لائن میری پیدائش سے پہلے ۱۹۰۱ میں انگریزوں نے بچھائی تھی۔ اُس وقت وہ میٹر گیج تھی جو اب براڈ گیج ہوچکی ہے۔ یہ ریلوے لائن ہمارے گاؤں سے اتنا زیادہ قریب تھی کہ وہ ہمارے گھر کی چھت سے دکھائی دیتی تھی۔ رات کے وقت ایسا معلوم ہوا تھا جیسے بہت سے روشن ڈبّے سیٹی بجاتے ہوئے زمین پر دوڑ رہے ہیں۔

ریلوے لائن کا یہ واقعہ اس بات کا ایک مظاہرہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں ایک نیا علم وجود میںآیا ہے جس کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ غیر متحرک مادہ کو متحرک سواری میں تبدیل کیا جاسکے۔ مگر مجھے یاد ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے میں اس حقیقت سے شعوری طورپر آگاہ نہ ہوسکا تھا۔ کیوں کہ اس وقت کے لیڈروں اور رہنماؤں نے مجھے صرف یہ بتایاتھا کہ یہ ریلوے لائن در اصل لوہے کی زنجیریں ہیں جن کے ذریعہ انگریز ہم کو اپنی غلامی میںجکڑ دینا چاہتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۱۹۴۷ ک بعد جب میں نے براہِ راست جدید علوم کا مطالعہ کیا ۔ اُس وقت میں نے یہ دریافت کیا کہ ریلوے کا نظام اس بات کی ایک علامت ہے کہ جدید انسان نے کس طرح نیچر کی طاقتوں کو دریافت کیا ہے اور اس کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے۔ ۱۹۴۷ سے میری اس بے خبری کا نتیجہ صرف یہ تھا کہ اُس وقت کے رہنماؤں کی تقریر اور تحریریں میرے لیے صحیح پر سوچنے میں رکاوٹ بن گئیں۔

قوموں کو بنانے والے در اصل اُن کے رہنماہوتے ہیں۔ رہنما حالات کا جس طرح مطالعہ کرتے ہیں اُسی طرح عوام اُن کا مطالعہ کرتے ہیں۔ عوام کی سوچ ہمیشہ اپنے رہنماؤں کی سوچ کے تابع ہوتی ہے۔ بہت کم ایسے خوش قسمت لوگ دنیا میں پیدا ہوئے ہیں جو رہنماؤں کی باتوں سے اوپر اٹھ کر سوچیں۔ جو خود اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعہ اپنی سوچ کا نقشہ بنائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content