← Al-Risala June 2004Al-Risala June 2004
سب سے زیادہ مبغوض چیز
Urdu · 4 min read
نوائے وقت کے شمارہ (۷ مئی ۲۰۰۴) میں ایک مضمون ’’فکر و عمل کی گھڑی‘‘ کے عنوان کے تحت تھا۔ اس مضمون میں پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ کا یہ خیال نقل کیا گیا تھا کہ جنرل بیگ کے مطابق، دوسری عالمی جنگ بیسویں صدی کا ایک عظیم واقعہ ہے۔ اس تاریخی سانحہ نے جتنا اس دنیا کو بدلا ہے کسی اور واقعہ نے نہیں بدلا۔ دوسری جنگ عظیم کے طفیل دنیا میں مسلم ملکوں کی تعداد تین سے بڑھ کر ستّاون ہوگئی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بات بطور واقعہ درست ہے۔ آزاد مسلم ملکوں کی اسی کثرت کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںمسلم ملکوں کی تعداد کسی بھی دوسرے گروپ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ مگر مضمون نگار (کے ایم اعظم) نے اس نقطۂ نظر پر شک ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ (آج یہ صورت حال ہے کہ) ہر طرف مسلمان ہی لڑ رہے ہیں۔ ہرجگہ مسلمان ہی شہید ہورہے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ کہنا درست نہیں کہ ہر طرف مسلمان ہی مارے جارہے ہیں۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہر طرف مسلمان ہی اپنے آپ کو مروا رہے ہیں۔ آج کل نام نہاد مجاہدین کے ساتھ مختلف مقامات پر جو کچھ پیش آرہا ہے وہ یقینی طور پر جہاد نہیں ہے بلکہ وہ ’’آبیل مجھے مار‘‘ کاواقعہ ہے۔ یہ اس حدیث رسول کی خلاف ورزی ہے کہ : لا تتمنوا لقاء العدو واسئلوا اللّٰہ العافیۃ (تم خود دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ تم اللہ سے ہمیشہ عافیت مانگو)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانہ کے مسلمان اس حدیث کو تو جانتے ہیں کہ: أبغض الحلال الی اللّٰہ الطلاق۔ مگر ان مسلمانوں کو یہ نہیں معلوم کہ اللہ کے نزدیک طلاق سے بھی زیادہ مبغوض چیز جنگ ہے۔ بعد کے مسلمانوں کی روش پر تنقید کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر نے بجا طور پر فرمایا تھا کہ اصحابِ رسول نے جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ کی، اور تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ نئے عنوان کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہوجائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں ارشاد ہوا ہے—اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتی اور نسل کو ہلاک کرے۔ حالاں کہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (البقرہ ۲۰۵)
Qur'anQuotes the Qur'an
فساد کا الٹا صلاح ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد اور صلاح کا معیار کیا ہے۔ اور کس طرح دونوں کو الگ الگ پہچانا جاسکتا ہے۔ وہ معیار نتیجہ (result) ہے آیت کے مطابق، وہ عمل فساد ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ انسانی سماج میںتخریبی سرگرمی بڑھے۔ زراعت اور اقتصادیات میں تباہی آئے۔ انسانی جانیں قتل ہونے لگیں۔ سماج میں امن کی جگہ بد امنی پیدا ہوجائے۔ ہر وہ عمل فساد ہے جو انسانی سماج میں اس قسم کا منفی نتیجہ پیدا کرے خواہ بظاہر اُس کو جہاد کے مقدس نام سے شروع کیا گیا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے مقابلہ میں وہ عمل صلاح وہ فلاح کا عمل ہے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ زمین کے اوپر مثبت سرگرمیاں جاری ہوں۔ جس کے نتیجہ میں زراعت و باغبانی ترقی کرے جس کے ذریعہ اقتصادیات کو فروغ حاصل ہو۔ جس کے نتیجہ میں لوگوں کی جانیں محفوظ ہوں اور صحت عامہ (health sciences) کو ترقی حاصل ہو۔ جو انسانوں کے درمیان دوری کو ختم کرکے اُنہیں ایک دوسرے سے قریب کردے۔
خدا کی نظر میں جنگ سب سے زیادہ مبغوض چیز ہے، اور امن سب سے زیادہ پسندیدہ چیز۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جنگ ماحول میں نفرت اور تشدد کو پھیلاؤ ملتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں امن کے ماحول میں محبت اور تعمیر وترقی کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔
ایک ایسا اقدام جس کا نتیجہ تخریب کی صورت میں نکلے، وہ اسلام میں بلا شبہہ ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بے شعوری کی بنا پر اس قسم کا اقدام کرے تو اقدام شروع کرنے کی حد تک اُس کو معذور قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر ایسے کسی عمل کو میزد جاری رکھنے کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں۔ آدمی کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ تخریبی نتیجہ نکلنے کی صورت میں فوراً ہی یوٹرن لے کر وہ اپنے اقدام کو روک دے اوراپنی سابقہ حالت کی طرف واپس چلا جائے۔