عبداللہ اینڈ کمپنی لمیٹیڈ ایک سگریٹ ساز کمپنی تھی جو 1902 میں لندن میں قائم ہوئی۔ وہ سگار اور سگریٹ بناتی تھی۔ اس کمپنی کا ایک سگریٹ جس کا نام عبد اللہ تھا، بہت مقبول ہوا۔ اس مقبولیت کا راز یہ ہے کہ کمپنی کے کچھ آدمی مشہور برٹش رائٹر جارج برنارڈ شا (George Bernard Shaw) (وفات1950) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ ہماری سگریٹ کے بارے میں کچھ لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا نے کہا: میں اسموکنگ کے خلاف ہوں، میں کیسے اس کے بارے میں لکھوں۔ کمپنی والوں نے کہا کہ آپ یہی بات لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا غصہ ہوگیا۔ اس نے غصے میں ایک کاغذ اٹھایا اور اس پر یہ الفاظ لکھ دیئے:
“Don't smoke, even Abdulla”,
کمپنی والوں نے برنارڈ شا کے الفاظ اخبار میں چھاپ دیئے۔ جب لوگوں نے برنارڈ شا کا یہ ریمارک پڑھا تو عبداللہ سگریٹ کے بارے میں ان کا شوق بڑھ گیا۔ سگریٹ کی دکانوں پر عبد اللہ سگریٹ خریدنے والوں کی بھیڑ لگ گئی۔ یہاں تک کہ عبد اللہ سگریٹ اس زمانے کا سب سے زیادہ بکنے والا سگریٹ بن گیا، کمپنی والوں نے اس سے بہت پیسہ کمایا۔
اگر بولنا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ چپ رہے۔ کبھی خاموشی کے ذریعے وہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے جس مقصد کو انسان بول کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اصل چیز نتیجہ ہے نہ کہ بولنا۔
اس دنیا میں جس طرح بولنا ضروری ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ضروری ہے۔ یہ آدمی کی دانش مندی کا امتحان ہے کہ وہ یہ جانے کہ کب اس کو بولنا ہے اور کب اس کو بولنے سے رک جانا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حالات کا جائزہ لے ، وہ نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ عمل وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.