← Al-Risala July 2016Al-Risala July 2016
سوال وجواب
Urdu · 3 min read
غیبت اور تنقید میں کیا فرق ہے، اس کی وضاحت فرمائیں ۔(شہنواز ظفر، دہلی)
غیبت کا حکم قرآن کی سورہ الحجرات آیت نمبر 12 میں آیا ہے۔ اسی طرح غیبت کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم حدیث نمبر 2589 کے تحت موجود ہے۔ علماء نے اس پر کافی لکھا ہے۔ آپ اس کے بارے قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں میں دیکھ سکتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غیبت کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے: آدمی کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہے جو اگر اسے معلوم ہو تو اس کو ناگوار گزرے۔ یہ غیبت کی درست تعریف ہے۔ لیکن تنقید (criticism) کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ غیبت اور تنقید کو ہم معنی سمجھنا صحیح نہیں۔
غیبت کی اصل پیٹھ کے پیچھے برائی کرنا (backbiting) ہے۔ یہ بلاشبہ ایک اخلاقی برائی ہے۔ اور قرآن و حدیث میں جس چیز کو برا بتایا گیا ہے وہ یہی غیر اخلاقی عادت ہے۔ کسی کی برائی اگر اس کے سامنے کی جائے تو اس آدمی کو موقع ہوتا ہے کہ وہ اس کی وضاحت کرے۔ آدمی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا اس لیے غلط ہے کہ اس کی وضاحت کرنے کے لیے وہ وہاں موجود نہیں ہوتا۔
غیبت ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کے مقابلے میں تنقید ایک علمی ضرورت ہے۔ اس اعتبار سے تنقید کا زیادہ درست لفظ تجزیہ (analysis) ہے ۔ تجزیہ ایک ایسی علمی ضرورت ہے جس کے بغیر علم کا ارتقاء نہیں ہوسکتا۔ تنقید کو غیبت کے ہم معنی سمجھنا اور اس پر پابندی لگانا علمی ترقی اور ذہنی ڈیولپمنٹ (intellectual development) کو ختم کردیتا ہے۔ اس کے بعد جو چیز باقی رہتی ہے، وہ ذہنی جمود (intellectual stagnation) ہے۔علمی تنقید کا تعلق کسی شخص کی ذاتی برائی بیان کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ معلوم حقائق (known facts) کی بنیاد پر کسی کے نقطہ نظر کا صحت و سقم بیان کرنا۔
شخصی برائی اور علمی تجزیہ کے درمیان یہ فرق ہے کہ شخصی برائی کا صحیح یا غلط ہونا صرف وہی آدمی جان سکتا ہے جس کی ذات کے بارے میں برائی کی گئی ہو۔ اس کی ذات کے باہر ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا جس سے یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس کی ذات کے بارے میں جو کچھ کہاگیا ہے وہ درست ہے یانہیں۔ اسی لیے شخصی برائی (غیبت) کی یہ لازمی شرط ہے کہ اس کو جب بیان کیا جائے تو وہاں خود وہ شخص موجود ہو جس کی ذات کے بارے میں برائی بیان کی گئی ہے۔
تجزیاتی تنقید (critical analysis) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔تجزیاتی تنقید ہمیشہ معلوم حقائق (known facts)کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ہمیشہ خارجی ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ریکارڈ سے تقابل کرکے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید درست تھی یا غلط۔
مثلا اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ وہ منافق ہے۔ تو یہ قول ایک سبجکٹیو (subjective) قول ہوگا۔ اس قول کی تحقیق کرنے کے لیے کوئی خارجی مواد نہیں ملے گا۔ اس لیے اس طرح کے بیان کے لیے ضروری ہے کہ متعلق شخص وہاں موجود ہو تاکہ وہ ایسے کسی قول کی خود سے وضاحت کرسکے۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی کے بارے میں یہ کہیں کہ اس نے اپنی فلاں مطبوعہ کتاب میں فلاں واقعہ کی تعریف غلط لکھی ہے، توہر شخص کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اس مطبوعہ کتاب کو حاصل کرے اور تاریخی ریکارڈ سے تقابل کرکے اس بیان کا صحیح یا غلط ہونا معلوم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی شخص کی ذات کے بارے میں تنقیص ناجائز ہے۔ اور کسی شخص کی بات کا علمی تجزیہ کرنا عین جائز ہے۔