ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن بہت ضروری ہے۔ ریزرویشن کے بغیر وہ اس ملک میں ترقی نہیں کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا ہو یا کوئی دوسرا ملک، ہر جگہ فطرت کا ایک ہی اٹل قانون ہے۔ اس قانون کے مطابق، ریزرویشن کسی کمیونٹی کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں۔
ریزرویشن، برعکس طور پر، ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ریزرویشن آدمی کے اندر کامپٹیشن کی اسپرٹ ختم کردیتا ہے۔ ریزرویشن کے ذریعے کسی کو کوئی معمولی فائدہ تو مل سکتا ہے۔ لیکن ریزرویشن کے ذریعے بڑی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اگر آپ کسی کو فیور نہ دیں تو آپ اس کو زیادہ بڑی چیز دیتے ہیں۔ اور وہ محنت کا محرک (incentive) ہے۔
فیور نہ ملنے کی وجہ آدمی کےاندریہ سوچ جاگتی ہے کہ مجھے کسی کی مہربانی سے کچھ ملنے والا نہیں۔ اس بنا پر میرے لیے ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ محنت کرکے میں میرٹ (merit) میں آنے کی کوشش کروں۔ یہ سوچ اس کے اندر محنت کے حق میں ایک کمپلشن (compulsion)پیدا کرتی ہے۔ اس کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ پہلے اگر وہ مین (man)تھا تو اب وہ سوپر مین (superman)بن جاتا ہے۔ اور آخر کار بڑی کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
محنت کے ذریعے آگے بڑھنے والے انسان کے اندر اور بھی کئی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے اندر خود اعتمادی (self-confidence) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی (realistic approach)آتی ہے۔ اس کے اندر شکایت کی نفسیات ختم ہوجاتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے اچھی مثال قائم کرتا ہے۔ وہ وقت اور مال دونوں کے استعمال کے معاملے میں سخت محتاط ہوجاتا ہے۔ وہ سماج کا ایک دینے والا(giver) ممبر بن جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔