ایک طالب علم نے ادب کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ۔ اس نے اپنی یہ کتاب ایک اسکالر کو یہ کہہ کر پیش کی کہ یہ میری پہلی تخلیق ہے ۔ اسکالر نے کتاب دیکھ کر کہاکہ یہ ایک غیر ادیب کی ادبی تخلیق ہے۔اسی طرح ایک شخص نے ایک غیر علمی کتاب لکھی اور اس کو شائع کیا۔ ایک عالم نے کتاب دیکھنے کے بعد تعجب سے کہا: ایک غیر مصنف نے تصنیف تیار کی ہے۔
یہ کلچر غیر ترقی یافتہ ملکوں میںبہت عام ہے۔ یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک غیر امام، امام بن جاتا ہے۔ ایک غیر لیڈر، لیڈر بن جاتا ہے۔ ایک غیر عالم، عالم بن جاتا ہے۔ ایک غیر ڈاکٹر، ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ ایک غیر مصنف، مصنف بن جاتا ہے۔ ایک غیر صحافی، صحافی بن جاتا ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی صورتِ حال کو دیکھ کر ان ملکوں میں ایک مثل عام ہے— نیم حکیم خطرۂ جان، نیم ملا خطرۂ ایمان۔
میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں۔ مجھے آپ کی کتابیں بہت پسند ہیں۔ میں بھی اسی طرح کی کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے اس سلسلے میں مشورہ دیجیے۔ میں نے کہا :آپ بیس سال عربی کتابیں پڑھیے۔ بیس سال انگریزی کتابیں پڑھیے۔ بیس سال لکھنے کی مشق کیجیے۔ اس کے بعد آپ کو لکھنا آجائے گا۔
کسی کام کو اچھی طرح انجام دینے کے لیے لمبی مدت تک تیاری کرناضروری ہوتا ہے۔ بغیر لمبی مدت کی تیاری کے کوئی شخص قابلِ ذکر کام انجام نہیں دے سکتا۔اس حقیقت کوالطاف حسین حالی نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشق رکھی ہے آج لذتِ زخم جگر کہاں
علی ابن ابی طالب کا ایک قول ہے قیمۃ کل امرء ما یحسن(جامع بیان العلم، حدیث نمبر608)۔ زندگی کااصول یہ ہے کہ آدمی یہ دریافت کرے کہ وہ کس کام کو زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکتا ہے، اسی کو وہ انجام دے۔ کم تر درجے کا کام انجام دینا صرف وقت کا ضیاع ہے، اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔