غلطی کرنے کے بعد اکثر لوگ دوسری غلطی یہ کرتے ہیں کہ غلطی کی صفائی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ غلطی کرنے کے بعد یہ دریافت کیا جائے کہ غلطی کیوں ہوئی۔ غلطی کی صفائی پیش کرنے والے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جہاں وہ پہلے تھا، وہیں وہ بعد کو بھی باقی رہتا ہے۔ اس کے برعکس، غلطی کا سبب دریافت کرنے والے کو یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطی کو دوبارہ دہرانے سے بچ جاتا ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :عن أنس، قال :قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: کل بنی آدم خطاء، وخیر الخطائین التوابون (ابن ماجہ، حدیث نمبر 4251)۔ یعنی ہر انسان غلطی کرنے والا ہے، اور سب سے اچھا غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد توبہ کرے۔
اصل یہ ہے کہ کسی انسان کے پاس کلی علم نہیں۔ اس بنا پر انسان ہمیشہ غلط رائے قائم کرتا ہے۔ اس کے منصوبہ میں ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ انسان کی خوبی یہ نہیں ہے کہ وہ کبھی غلطی نہ کرے۔ انسان کی خوبی یہ ہے کہ کسی وجہ سےغلطی کرنے کے بعد جب اس پر اپنی غلطی ظاہر ہوجائے تو وہ فوراً رجوع کرے، وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ، اپنے عمل کو مطابقِ حقیقت بنائے۔ وہ کھلے طور پر اعتراف کرے کہ اس سے پہلے اس سے غلطی ہوگئی تھی۔ اب وہ اپنی رائے کو بدلتا ہے، اور زیادہ درست انداز میں اپنے کام کا نقشہ بناتا ہے۔
جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، اس کی قیمت اس کو یہ دینی پڑے گی کہ وہ بدستور اپنی غلط روش پر قائم رہے۔ اس طرح وہ ایک طرف یقین سے محروم ہوجائے گا۔ کیوں کہ ایک بات کو درست نہ سمجھتے ہوئے وہ اس پر قائم رہے گا۔ دوسرا نقصان یہ ہوگا کہ اس کا عمل نتیجہ خیز ثابت نہ ہوگا، اس کا منصوبہ مطلوب نتیجے تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوگا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔