مشہور صحابی انس بن مالک کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :شج النبی صلى اللہ علیہ وسلم یوم أحد، فقال:’’کیف یفلح قوم شجوا نبیہم؟‘‘. فنزلت:لیس لک من الأمر شیء۔(صحیح مسلم حدیث نمبر1791)۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ غزوۂ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگیے۔ اس وقت آپ نے فرمایا: وہ قوم کیسے فلاح پائے گی، جو اپنے نبی کو زخمی کرے۔ اس پر قرآن میں یہ آیت اتری ، تم کو اس معاملےمیں کوئی دخل نہیں ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہےکہ داعی کا اخلاق کیا ہونا چاہیے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ اخلاقیات کا طریقہ اختیار کرے۔ یعنی مدعو کے سلوک پر کوئی شکایت نہ کرنا۔ شکایت اور احتجاج سے پوری طرح اوپر اٹھ جانا، ہر حال میں ردعمل کی نفسیات سے کامل طور پر پاک ہونا۔
داعی اپنے مدعو کا مکمل طور پر خیر خواہ ہوتا ہے۔ یہی خیر خواہی کی اسپرٹ داعی کے اندر وہ اخلاقیات پیدا کرتی ہے جو داعی کو کامل طور پر ایک بے شکایت انسان بنا دیتی ہے۔ داعی کے اندر یک طرفہ اخلاقیات کی یہ صفت لازمی طور پر ضروری ہے۔ داعی اگر اس کردار کا حامل نہ ہو تو وہ کبھی دعوت الی اللہ کا کام نہیں کرسکتا۔
دعوت سے مراد دعوت الی اللہ ہے۔ داعی اپنا دعوتی کام اللہ کے لیے کرتا ہے۔ وہ اپنے عمل کے لیے اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے۔ مدعو کا رویہ خواہ کچھ ہو، داعی ہر تجربے کو اللہ کی نسبت سے دیکھتا ہے۔ داعی کے اندر اگر ردعمل کا مزاج پیدا ہوجائے ، وہ اپنے مدعو سے ٹکراؤ شروع کردے تو اس کی دعوت ، وہ دعوت نہ ہوگی جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دعوت کے ذریعے انسان کے اوپر حجت تمام ہو۔ اس کو یہ کہنے کا موقع باقی نہ رہے کہ ہم بے خبر تھے۔ داعی کے اندر یکطرفہ اخلاقیات کا مقصد یہ ہے کہ مدعو کے لیے کسی قسم کا عذر باقی نہ رہے،مدعو کے ساتھ آخرت میں جو معاملہ کیا جائے وہ ہر اعتبار سے ایک جائز معاملہ ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔