پرنٹنگ پریس 1440 ءمیں ایجاد ہوا۔ ا س کا موجد جرمنی کا گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) ہے۔ مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس زیادہ دیر میں عام ہوا۔ 1727ء میں ترکی میں ابراہیم متفرقہ نے پرنٹنگ پریس قائم کیا۔پریس کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہ تھا..... (مگراس وقت کے) بااقتدار علماء نے اسے ــ’’بدعت‘‘ تصور کیا، شیخ الاسلام نے فتوی دیا کہ (اس پر) مذہبی کتابوں کا چھاپنا شرعاً ممنوع ہے۔ (اشخاص و افکار، ضیاء الحسن فاروقی، ص 16-17،این سی پی یو ایل، نئی دہلی، 2011)۔
حرمت کے فتووں کا رواج اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں جب امت میں زوال آیا تو علماء تقلید کی روش پر قائم ہوچکے تھے۔ وہ ہر نئی چیز کو توحش کی نظر سے دیکھنے لگے۔ وہ ہر نئی چیز کو شریعت کے خلاف سمجھنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حرمت کے فتووں کا رواج عام ہوا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
’’حرمت کی شریعت‘‘ کے اس رواج کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب زمانے سے بے خبری (unawareness) ہے۔ بعد کے زمانے میں علماء اپنے وقت کی علمی ترقیوں سے بے خبر ہوگیے۔ اس بنا پر وہ ہر نئی چیز کو غلط سمجھنے لگے۔ اگر یہ علماء جدید حالات سے واقف ہوں، اگر وہ وقت کے علمی معیار پر نئے مسائل کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں تو وہ نئے حالات کا مطالعہ کریں گے۔ وہ علمی انداز میں اس کا تجزیہ کریں گے۔ اور پھر وقت کی علمی سطح پر اس کی نوعیت کو بیان کریں گے۔ وہ تکفیر کی زبان استعمال کرنے کے بجائےعلمی تجزیہ کی زبان استعمال کریں گے۔ بلکہ وہ نئے پیدا شدہ حالات کو اپنے ذہنی ارتقا کے لیے فکری خوراک بنا لیں گے۔ مگر بد قسمتی سے بعد کے زمانے کے مسلم علماء اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے۔ ہر چیز جو ان کی سمجھ میں نہیں آئی، اس پر وہ منفی ردعمل کا اظہار کرنے لگے۔ یہ ذہنی جمود کی حالت ہے۔ اور ذہنی جمود کی حالت اسلام میں مطلوب نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔