Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2016
Al-Risala July 2016

زوال کی علامت

Urdu · 2 min read

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لَتُنْقَضَنَّ عُرى الإسلام عُروة عروة، فکلما انتقضت عروة تَشبّث الناس بالتی تلیہا، وأولہن نقضا الْحُکْمُ وآخرہن الصلاة۔ (مسند احمد، حدیث نمبر22160) یعنی اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے توڑ دی جائیں گی۔ جب بھی کوئی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی سے چمٹ جائیں گے، اور ان کڑیوں میں سے پہلی کڑی جو ٹوٹے گی وہ حُکم ہوگا، اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی وہ نماز ہوگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث میںایک تمثیل کے ذریعے امت کے زوال کی حالت بتائی گئی ہے۔ زوال کا آغاز حُکم کے خاتمے سے ہوتا ہے۔ حُکم کا مطلب حکمت (wisdom) ہے۔ یہاں حکمت کا لفظ عام معنی میں نہیں بلکہ دینی معنی میں ہے۔ یعنی امت کے افراد میں حکمتِ دنیا تو باقی رہتی ہے لیکن حکمتِ دینی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ نماز سے مراد ، نماز کی صورت (form)نہیں بلکہ نماز کی اسپرٹ ہے۔ زوال کے زمانے میں لوگ بظاہر نماز کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن عملاًوہ فارم کی نماز ہوتی ہے نہ کہ اسپرٹ کی نماز۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حکم اور صلاۃ دونوں کے خاتمے کا سبب ایک ہوتا ہے۔ اور وہ ہے دین کی حقیقت گم ہوجانا، اور اس کا صرف کلچر کی سطح پر باقی رہنا۔ حکم سے مراد دین کی سمجھ ہے۔زوال کے زمانے میں یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کا تعلق زیادہ سے زیادہ اپنے دنیوی معاملات سے ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر یہ ہوتا ہے دین کے بارے میں لوگوں کی حساسیت پہلے کم ہوتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے۔ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں مشغول رہتے ہیں۔ اس مشغولیت کے بنا پر عملا یہ ہوتا ہے کہ دین کی حساسیت صرف وہ لوگ زندہ رکھ پاتے ہیں جو عملی مشغولیت کے باوجود فکری طور پر بیدار ہوں اوربالقصد سوچ کی سطح پر دین کی اسپرٹ کو باقی رکھیں۔ اس کے برعکس اگر ایسا نہ ہوتواس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر سے دین کی سمجھ ختم ہوجاتی ہے، اور لوگ بے روح فارم کو دین سمجھ لیتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content