ایک صاحب نے کہاکہ آپ مجھ کو ایک جامع نصیحت کیجیے، جس کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح سے ہو۔ میں نے کہا کہ قرآن کی روشنی میں میرا جواب یہ ہے کہ صبر کا طریقہ اختیار کیجیے۔ اور پھر آپ اللہ کی توفیق سے دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک مستقل خدائی گائڈ موجود ہے۔ یہ انسان کا ضمیر (conscience) ہے ۔ انسان کا ضمیر ایک بے خطا رہنما ہے۔ وہ ہمیشہ انسان کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ انسان کے اندر مختلف قسم کی خواہشیں ( desires) ہیں۔ قرآن میں ضمیر کو نفس لوامہ کہا گیا ہے، اور خواہشوں کو نفس امارہ۔
انسان کا ضمیر ہر موقعہ پر اس کو صحیح رہنمائی دیتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی خواہشیں انسان کو اپنی طرف کھیچنے لگتی ہیں۔ اس طرح ضمیر اورخواہش کے درمیا ن ایک ٹکراؤپیدا ہوجاتا ہے۔ اس ٹکراؤ میں اکثر خواہش غالب آتی ہے اور انسان ضمیر کی آواز کو نظر انداز کرکے خواہش کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ یہ واقعہ دنیا کے معاملات میں بھی پیش آتا ہے اور آخرت کے معاملات میں بھی۔
اس نازک وقت میں جو چیز انسان کے کام آتی ہے، وہ صبر ہے۔ انسان اگر صبر کا ثبوت دے تو وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرے گا۔ اس طرح وہ اس میں کامیاب ہوجائے گا کہ وہ صراطِ مستقیم سے انحراف ( deviate)نہ کرے۔ اور ضمیر کی آواز پر چلتے ہوئے ، اپنا سفر صحیح سمت میں جاری رکھے۔یہاں تک کہ وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے۔اسی لیے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر پر انسان کو سب سے زیادہ انعام دیاجاتا ہے(الزمر10 )۔
عملی اعتبار سے زندگی میں سلبی صفت کی اہمیت ایجابی صفت سے بھی زیادہ ہے۔ جو آدمی صرف کرنا جانے اور رکنا نہ جانے، وہ کبھی اپنی زندگی میں اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ زندگی کا معاملہ موٹر کارکے معاملہ جیسا ہے۔ موٹر کار میں اگر بریک نہ ہوتو خواہ موٹر کار کتنی ہی اچھی ہو، وہ منزل پر نہیں پہنچ سکتی۔موٹر کار میں جو اہمیت بریک کی ہے،وہی اہمیت زندگی میں صبر کی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔