موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ کوئی خارجی سازش نہیں۔ ا ن کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ دورِ حاضر سے بے خبر ہوگیے ہیں۔ مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ دورِ حاضر ان کے لیے مسائل کا دور (age of problems)ہے۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ موجودہ زمانہ مسلمانوں کے لیے مواقع کا زمانہ (age of opportunities)ہے۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وعلى العاقل أن یکون بصیرًا بزمانہ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر361)۔ یعنی دانش مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے با خبر ہو۔ آدمی جب اپنے زمانے سے باخبر ہو تو وہ اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی کرے گا۔ او ر اگر وہ زمانے سے بے خبر ہوجائے تو اس کی سوچ بھی غلط ہوجائے گی، اور اس کی منصوبہ بندی بھی غلط۔
اکثر تعلیم یافتہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ امریکا اسلام دشمن ہے۔ اس نظریہ کو عام طور پر اسلاموفوبیا (Islamophobia)کہا جاتا ہے۔ مگر یہ بات مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ کوئی بھی شخص امریکا کا سفر کرے، تو وہ پائے گا کہ وہاں کے مسلمان خوب ترقی کر رہے ہیں۔ وہاں بڑی تعداد میں مسجدیں اور اسلامی سینٹر قائم ہیں۔ مذہبی اعتبار سے وہاں مسلمانوں کو کوئی بھی رکاوٹ نہیں۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ خود مسلمان امریکو فوبیا (Americophobia) میں مبتلا ہیں، نہ کہ امریکا اسلامو فوبیا میں۔
موجودہ زمانے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں متعصبانہ فکر کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ جدید دور کا کلچر تمام تر ایک ہی اصول پر قائم ہے۔ اور وہ ہے مسابقت (competition)۔ مغربی دنیا کا فارمولا ایک لفظ میں یہ ہےcompete or perish
مسلمان اپنی روایتی سوچ کی بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب ان کے خلاف سازش کرتا ہے، مغرب میں ان کے خلاف تعصب کیا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں بالکل بے بنیاد ہیں۔ مسلمان صرف ایک کام کریں۔ وہ یہ ہے کہ وہ جدید تعلیم میں امتیازی درجہ حاصل کریں۔ اس کے بعد ان کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔