اسلام کا مقتضی صرف دو ہے۔ داخلی طور پر یہ کہ ہر مسلم تقویٰ کی زندگی اختیار کرے۔ خارجی طور پراہل اسلام کا مشن، دعوت الی اللہ ہے۔ یعنی اللہ کے پیغامِ رحمت کو پر امن انداز میں تمام انسانوں تک پہنچانا۔ اس معاملے میں سیاسی اقتدار کا اصل رول سماج میں موافق حالات قائم کرنا ہے۔ اور امت کے افراد اور امت کے اداروں کا رول یہ ہے کہ وہ پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے ساری دنیا میں دعوت و اشاعت کا وہ کام انجام دیں جو پیغمبروں نے اپنے زمانے میں انجام دیا تھا۔
دین کے اس تصور کی روشنی میں جو نقشہ بنتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ہر مومن اپنے آپ کو دین حق سے باخبر کرے۔ اس بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیا ن کیاگیا ہے: طلب العلم فریضة على کل مسلم (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224) ۔یعنی ہر مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو دینی اعتبار سے ایک تیار ذہن (prepared mind)بنائے۔ جہاں تک سیاسی اقتدار کا تعلق ہے، اس کا کام شریعت کی تنفیذ (enforcement of Shariah) نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ جو اہل ایمان شریعتِ اسلامی کے پیرو (follower) بننا چاہتے ہیں، ان کے لیے موافق حالات فراہم کرنا۔ تاکہ وہ کسی غیر ضروری رکاوٹ کے بغیر دین کے تقاضوں کو پورا کرسکیں۔
قرآن وحدیث سےیہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی تخت پر غیر مسلم حکمراں ہو ۔اور وہ مذکورہ معنوں میں اہل اسلام کے لیے موید (supporter) بن سکتا ہو تو غیر مسلم حکمراں بھی اہل ایمان کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔ اسی اصول کے تحت یوسف علیہ السلام نے اپنے زمانے کے غیرمسلم حکمراں کو قبول کیا تھا۔ اور اسی اصول کے مطابق مکی دور میں کچھ صحابہ نے حبش کے غیر مسلم حکمراں کو قبول کیا تھا۔ جب کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ پرمکہ سے ہجرت کرکے حبش گیےاور وہاںدس سال سے زیادہ عرصے تک مقیم رہے۔موجودہ زمانے کی سیکولر حکومت بھی عین اسی تصور کے مطابق ہے۔اس لیے موجودہ زمانے کی سیکولر حکومت بھی مسلمانوں کے لیےقابلِ قبول ہونا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔