قدیم زمانہ مواقع (opportunities) کی موناپلی (monopoly) کا زمانہ تھا۔ اس لیے قدیم زمانے میں صرف ایک ہی قسم کا ایمپائر بن سکتا تھا۔ اور وہ پولیٹکل ایمپائر تھا۔ قدیم زمانے میں جتنے ایمپائر بنے وہ سب کے سب سیاسی ایمپائر تھے۔ موجودہ زمانہ خاتمۂ اجارہ داری (de-monopolization) کا زمانہ ہے۔ اس سےسارے مواقع ہر ایک کے لیے کھل گیے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا کہ کوئی بھی شخص یا گروپ خالص پرامن طریقۂ کار کے ذریعے اپنا ایمپائر کھڑا کر سکے۔
اس نئے امکان کو ابھی تک زیادہ تر سیکولر لوگوں نے استعمال کیا ہے۔ نئے مواقع سے فائدہ اٹھاکر انھوں نے اپنے اپنے ایمپائر بنا لیے ہیں۔ مثلا ایجوکیشنل ایمپائر، انڈسٹریل ایمپائر، انسٹی ٹیوشنل ایمپائر (institutional empire)، وغیرہ۔
مگر مذہب کےمعاملے میں اس امکان کو استعمال کرنے کا میدان ابھی تک خالی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذہب کے میدان میں اس امکان کو استعمال کرنے کا سب سے بڑا میدان یہ ہے کہ قرآن ایمپائر بنایا جائے۔ امکان (potential) کے اعتبار سے قرآن ایمپائر آج بھی موجود ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس امکان کو عمل کی صورت میں کھڑا کیا جائے۔
پولیٹکل ایمپائر کے لیے ضرورت ہوتی تھی کہ بہت سے ملکوں میں ایک بادشاہ کی حکومت قائم ہو۔ مگر موجودہ زمانے میں قرآن ایمپائر بنانے کے لیے کسی بڑے زمینی رقبے کی ضرورت نہیں، آج چھوٹے زمینی رقبہ میں بھی قرآن ایمپائر بنایا جاسکتا ہے۔
موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن (communication) اور دوسرے عالمی وسائل نے ٹکنالوجی کو ہر دوسری چیز کا بدل بنادیا ہے۔ ا ٓج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک چھوٹے مرکز کو جدید وسائل کے استعمال سے عالمی سطح کا قرآن ایمپائر بنادیا جائے۔ قرآن کا مختلف زبان میں ترجمہ خود اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی بنیاد پر ایک اعلی درجے کا قرآن ایمپائر کھڑا کیا جاسکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.