ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے:إذا أراد اللہ بالأمیر خیرا جعل لہ وزیر صدق، إن نسی ذکرہ، وإن ذکر أعانہ، وإذا أراد اللہ بہ غیر ذلک جعل لہ وزیر سوء، إن نسی لم یذکرہ، وإن ذکر لم یعنہ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر2932)یعنی اللہ جب کسی حاکم کے ساتھ خیر چاہتا ہے تو اس کو ایک سچا وزیر دے دیتا ہے، اگر حاکم بھولے تو وہ اس کو یاد دلائے، اور جب وہ یاد دلائے تو وہ اس کی مدد کرے۔ اور جب اللہ کسی حاکم کے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کو ایک برا وزیر دے دیتا ہے، اگر حاکم بھولے تو وہ اس کو یاد نہ دلائے، اور اگر وہ یاد دلائے تو وہ اس کی مدد نہ کرے۔
اس حدیث میں حاکم اور وزیر کی مثال کے ذریعے مشیر کی اہمیت کو بتایاگیا ہے۔ ہر انسان کے ساتھ رسمی یا غیر رسمی طور پر کچھ دوست اور مشیر ہوتے ہیں۔ یہ مشیر اگر سچے ہیں تو وہ ہمیشہ خیر خواہی والا مشورہ دیں گے، اور اگر مشیر سچے نہیں ہیں تو وہ ایسے مشورہ دیں گے جن سے آدمی کا کوئی بھلا ہونے والا نہیں۔ لیکن یہ معاملہ یک طرفہ نہیں ہے، بلکہ دو طرفہ ہے۔ دوست یا مشیر کا سچا ہونا یا سچا نہ ہونا ، اس کا تعلق پچاس فیصد خود آدمی سے ہے۔ آدمی اگر خوشامد پسند ہو تو اس کے ارد گرد جھوٹے دوست اور جھوٹے مشیر جمع ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس، اگر آدمی حقیقت پسند ہو تو اس کے دوست اور مشیر بھی سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوں گے۔
آدمی کی یہ ضرورت ہے کہ اس کے پاس سچے دوست اور سچے مشیر ہوں۔ ایسے لوگ آدمی کی طاقت ہیں۔ وہ اس کو خیر کا مشورہ دیں گے، شر سے بچائیں گے۔لیکن یہ آدمی کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کرتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اس معاملے میں وہ نہایت باشعور ہو تاکہ اس کے اردگرد صرف خیر پسند افراد اکٹھا ہوں۔اس معاملے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ آدمی کے اندر تنقید کو سننے کا مزاج ہو، وہ انسان کی قدر کرنا جانتا ہو۔ وہ خوشامد سے خوش ہونے والا، اور تنقید کو برا ماننے والا نہ ہو۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت ہو، اس کے گرد یقینا اچھے لوگ جمع ہوں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔