سورہ الزمر کی ایک آیت ہے، جس کے بارے میں صحابی عبد اللہ ابن عمر نے کہا : ہذہ أرجى آیة فی القرآن (تفسیر القرطبی )۔ یعنی یہ قرآن کی سب سے زیادہ پر امید آیت ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اپنے آپ پر زیادتی ( to commit excesses against one’s own soul) ایک عام لفظ ہے۔ اس میں ہر قسم کی غلطیاں شامل ہیں۔ حدیث میں آیا ہے : کل بنی آدم خطاء (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4251)۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندر ضمیر (conscience) ہے۔ انسان اپنی خواہش کے تحت غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد اس کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ اور اس کو شدت کے ساتھ ملامت کرتا ہے کہ اب تمھارا انجام کیا ہوگا۔
یہ احساسِ خطا اکثر آدمی کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر یہ آیت بتاتی ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ غلطی کے ارتکاب کے بعد مایوسی کے بجائےاللہ کے سامنے مغفرت کا طالب بنے۔وہ زیادہ سے زیادہ دعا کرے، اور اللہ کی طرف زیادہ سے زیادہ رجوع کرے۔
طلبِ مغفرت کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک نفسیاتی طوفان کا معاملہ ہے۔ طلبِ مغفرت آدمی کی روحانیت کو جگاتی ہے۔ طلبِ مغفرت سے آدمی کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شخصیت کے ارتقاء (personality development) کا عمل تیز ہوجاتا ہے۔ یہ عمل (process) اگر بھر پور طور پر جاری رہے تو اس کا نتیجہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سیئات حسنات میں بدل جاتے ہیں(الفرقان70)۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔