Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2016
Al-Risala July 2016

شب قدر کس کے لیے

Urdu · 2 min read

شب قدر (لیلۃ القدر) رمضان کے مہینے کی آخری عشرے میں کسی طاق رات کو آتی ہے۔ شب قدر کو پانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ رمضان کی جس رات کو آئے ، وہ اپنے آپ روزے دار کو حاصل جائے۔بلکہ اس کے لیے تیاری ضروری ہے۔ شب قدرکی برکت صرف اس انسان کو ملے گی جو تیار شخصیت کے ساتھ اس میں داخل ہو۔

شب قدر کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 97میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ایک جزء یہ ہے تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیہَا بِإِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أَمْر، سَلَامٌ (القدر5-6 )۔ فرشتے اور روح اس رات میں اپنے رب کی اجازت سے اُترتے ہیں ،ہر حکم لے کر۔وہ رات سراسر امن ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

On that night, the angels and the Spirit come down by the permission of their Lord with His decrees for all matters, ; it is all peace.

Qur'anQuotes the Qur'an

قرآن کی اس آیت کے مطابق ، شب قدر امن کی رات (night of peace) ہے۔ شب قدر کے بارے میں قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ تیار شخصیت (prepared personality) کون ہے جس کو فطرت کے قانون کے مطابق اس رات کی برکتوں میں حصہ ملے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ شخصیت پر امن شخصیت (peaceful personality) ہے۔ یعنی وہ شخصیت جس کو حقیقت کی دریافت اس طرح ہوئی ہو کہ وہ پورے معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) والاانسان بن گیا ہو۔ اس کی معرفت نے اس کے اندر خلق عظیم (القلم4 )کی صفت پیدا کردی ہو۔ اس کے نتیجے میں اس کا حال یہ ہوجائے کہ اس کے دل میں دوسروں کے لیے محبت اور خیر خواہی کے سوا کچھ نہ ہو۔ وہ تشدد پسند انسان کے بجائے امن پسند انسان بن گیا ہو۔ وہ ردعمل (reaction) کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کو شب قدر کی برکتیں حاصل ہوں گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content