شب قدر (لیلۃ القدر) رمضان کے مہینے کی آخری عشرے میں کسی طاق رات کو آتی ہے۔ شب قدر کو پانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ رمضان کی جس رات کو آئے ، وہ اپنے آپ روزے دار کو حاصل جائے۔بلکہ اس کے لیے تیاری ضروری ہے۔ شب قدرکی برکت صرف اس انسان کو ملے گی جو تیار شخصیت کے ساتھ اس میں داخل ہو۔
شب قدر کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 97میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ایک جزء یہ ہے تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیہَا بِإِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أَمْر، سَلَامٌ (القدر5-6 )۔ فرشتے اور روح اس رات میں اپنے رب کی اجازت سے اُترتے ہیں ،ہر حکم لے کر۔وہ رات سراسر امن ہے۔
On that night, the angels and the Spirit come down by the permission of their Lord with His decrees for all matters, ; it is all peace.
قرآن کی اس آیت کے مطابق ، شب قدر امن کی رات (night of peace) ہے۔ شب قدر کے بارے میں قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ وہ تیار شخصیت (prepared personality) کون ہے جس کو فطرت کے قانون کے مطابق اس رات کی برکتوں میں حصہ ملے گا۔
یہ شخصیت پر امن شخصیت (peaceful personality) ہے۔ یعنی وہ شخصیت جس کو حقیقت کی دریافت اس طرح ہوئی ہو کہ وہ پورے معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) والاانسان بن گیا ہو۔ اس کی معرفت نے اس کے اندر خلق عظیم (القلم4 )کی صفت پیدا کردی ہو۔ اس کے نتیجے میں اس کا حال یہ ہوجائے کہ اس کے دل میں دوسروں کے لیے محبت اور خیر خواہی کے سوا کچھ نہ ہو۔ وہ تشدد پسند انسان کے بجائے امن پسند انسان بن گیا ہو۔ وہ ردعمل (reaction) کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کو شب قدر کی برکتیں حاصل ہوں گی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔