ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قیل لرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم أی الناس أفضل؟ قال کل مخموم القلب، صدوق اللسان ، قالوا صدوق اللسان، نعرفہ، فما مخموم القلب؟ قال ہو التقی النقی، لا إثم فیہ، ولا بغی، ولا غل، ولا حسد(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4216)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں افضل انسان کون ہے، آپ نے جواب دیا: وہ انسان جو مخموم القلب ہو، اور صدوق اللسان ہو۔ لوگوں نے کہا کہ صدوق اللسان (سچ بولنے والا) ہم جانتے ہیں، پس مخموم القلب کیا ہے۔ آپ نے جواب دیا: یہ وہ انسان ہے جس کے اندر تقوی ہو، جوپاکباز ہو، جس کے اندر گناہ گاری نہ ہو، جس کے اندر سرکشی نہ ہو، جس کے اندر کینہ نہ ہو، جس کے اندر حسد نہ ہو۔ مخموم القلب کون ہے، اس کو اگر بدلے ہوئے الفاظ میں بتایا جائے تو وہ مثبت انسان (positive person) ہوگا۔ یعنی مخموم القلب انسان وہ ہے جو منفی سوچ (negative thinking)سے خالی ہو، جو مخالف حالات کے درمیان مثبت سوچ کے ساتھ جینے والا انسان ہو۔ جس کے دل میں ہر ایک کے لیے صرف مثبت جذبات پائے جاتے ہوں۔
ایسا انسان اپنے سماج کا بے مسئلہ انسان ہوگا۔ یہی وہ انسان ہے جو دعوت الی اللہ کے کام کے لیے اہل انسان ہے۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لیے خیر خواہی ہوگی۔ اور خیر خواہی (well-wishing) کی صفت کے بغیر کوئی شخص دعوت الی اللہ کا کام انجام نہیں دے سکتا ۔ داعی صرف وہ انسان بن سکتا ہے جو انسان دوست (human-friendly) انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی ناخوشگوار بات پیش آتی ہے جو داعی کو منفی انسان بنادے۔ اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ اخلاقیات کا حامل ہو، وہ رد عمل کی نفسیات سے پوری طرح پاک ہو۔ اس کے دل میں ہر ایک کے لیے ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہوں۔ جو انسان اس قسم کی مثبت شخصیت کا حامل نہ ہو، وہ کبھی دعوت الی اللہ کا کام مطلوب انداز میں انجام نہیں دے سکتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔