قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اس کو رمضان کے مہینے میں اُتارا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ چنانچہ امت میں قدیم زمانے سے یہ رواج ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کو بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ قرآن کایہ مطالعہ اگر سمجھ کر کیا جائے تو اس سے غیر معمولی دینی فائدہ حاصل ہوگا۔رمضان میں قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے۔ رمضان میں رات کے وقت تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ یہ گویاحالت قیام میں قرآن کا اجتماعی مطالعہ ہے۔نیز اعتکاف اس لیے ہے کہ رمضان کے مہینے میں آدمی کچھ دن ایسے گزارے ، جب کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کے مطالعے میں مشغول رہے۔
ایک شخص روزہ رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ اس دوران وہ اس آیت تک پہنچتاہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ( 2:187)۔ اس آیت سے وہ دریافت کرتا ہے کہ رمضان شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) ہے۔ پھر وہ قرآن کی تلاوت کے دوران یہ آیت پڑھتا ہے: کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ مُبَارَکٌ لِّیَدَّبَّرُوا آیَاتِہِ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ( 38:29)۔ اس آیت سے وہ یہ معلوم کرتاہے کہ قرآن اس لئے آیا ہے کہ لوگ اس پر تدبر (غوروفکر) کریں۔ اس دریافت کے بعد وہ یہ طے کرتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں وہ قرآن کا مطالعہ کرے گا اور رمضان کے مہینہ میں کم ازکم ایک بار ضرور وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھے گا۔
روزہ قرآن کے مطالعے کی تحریک ہے۔روزہ آدمی کو قرآن سے وابستہ کرتا ہے۔ روزہ آدمی کو اس مقصد کے لیے یکسو کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرآ ن کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ روزہ دارگویا اپنے آپ کو قرآن کے مطالعے کے لیے فارغ کرتا ہے۔ روزہ کے مہینے میں آدمی کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ قرآن فہمی کے لیے خصوصی طور پر مفید ہے۔اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ روزہ کا مہینہ آدمی کو قرآن سے قریب کرنے کا مہینہ ہے۔ ر`وزے کامقصد یہ ہے کہ آدمی تقوی کی اسپرٹ کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔