Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala july 2015
Al-Risala july 2015

علم کی حد

Urdu · 2 min read

فلسفی یا سائنس داں، جس شخص نے بھی گہرا علمی مطالعہ کیا ہے، آخر میں وہ اس رائے پر پہنچا ہے کہ انسانی علم کی ایک حد ہے- اس حد سے آگے انسان کےلیے جانا ممکن نہیں- مثال کے طورپر فلسفیوں کے درمیان یہ بحث تھی کہ انسان کے وجود کا علمی ثبوت کیا ہے- مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے کہا کہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I think therefore I exist.

مگر یہ جواب کافی ثابت نہیں ہوا- کیوں کہ دوبارہ یہ سوال سامنے آیا کہ یہ تو ایک داخلی ثبوت (subjective evidence)ہے نہ کہ موضوعی ثبوت (objective evidence) - داخلی ثبوت کسی شخص کو ذاتی یقین دے سکتا ہے، لیکن دوسرے شخص کے لیے اس میں یقین کا سامان موجود نہیں۔ یہ یک طرفہ ثبوت ہے ،نہ کہ دوطرفہ ثبوت۔

سائنس دانوں نے طبیعیاتی دنیا کا مطالعہ شروع کیا- آخر میں وہ ایٹم تک پہنچے- لیکن ایٹم بھی ٹوٹ گیا اور اس کے بعد جو کچھ تھا وہ ناقابل مشاہدہ تھا، یعنی ایک سائنس داں کے الفاظ میں قیاسی لہریں (waves of probability) - اس کے بعد سائنس داں اس ناقابل حل سوال میں مبتلا ہوگئے کہ ہماری دنیا کا وجود خارجی (objective) ہے یا داخلی (subjective)-

علم کے تمام شعبوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ اس کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتا- ایسی حالت میں یہ سب سے بڑا علم ہے کہ انسان علم کی حد کو جانے- اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنابے حد خطرناک ہے- کیوں کہ وہ آدمی کو صرف کنفیوزن (confusion) تک پہنچائے گا، نہ کہ یقین تک- علم کا آخری مطلوب یقین ہے- جو طریق مطالعہ یقین تک پہنچائے وہ علم ہے، اور جو طریق مطالعہ بے یقینی یا کنفیوزن تک پہنچائے، وہ بلا شبہہ بے علمی ہے، خواہ کوئی شخص اس کو علم کادرجہ دیتا ہو-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content