برطانیہ کے ایک پروفیشنل ڈرائیور نے ایک کتاب لکھی ہے- اِس کتاب میں اُس نے یہ بتایا ہے کہ گاڑی چلانے کے اصول کیا کیا ہیں- اُس نے لکھا ہے کہ اگر آپ ایک روڈ پر اپنی کاردوڑا رہے ہیں، اور اچانک آپ یہ دیکھتے ہیں کہ سائڈ کی لین سے نکل کر ایک گیند روڈ پر آگئی ہے، تو آپ کو جاننا چاہئے کہ اِس گیند کے پیچھے ایک بچہ بھی آرہا ہوگا- اگر آپ اس حقیقت کو نہ جانیں، اور اپنی کاردوڑاتے ہوئے بچے کو کچل دیں تو آپ بچے کی موت سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے- آپ کو بچے کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا- اِس معاملہ میں آپ کا یہ عذر نہیں سنا جائے کہ آپ نے بچے کو نہیں دیکھا تھا-
یہ ایک ایسا اصول ہے، جس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے-اِس کو باخبری کا اصول (principle of awareness) کہاجاسکتاہے- عملی اعتبار سے اِس اصول کی بے حداہمیت ہے- جو شخص اس اصول سے بے خبر ہو، وہ اپنی زندگی میں ہمیشہ غیر ضروری مسائل سے دوچار رہے گا- اُس کو کبھی سکون حاصل نہ ہوگا- مزید یہ کہ اپنی بے خبری کی بنا پر وہ غلطی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا رہے گا- اِس اصول کا تعلق خاندانی زندگی سے بھی ہے، اور سماجی زندگی سے بھی- اِس اصول کا تعلق قومی زندگی سے بھی ہے، اور بین اقوامی زندگی سے بھی- آدمی کو چاہئے کہ وہ ایک ہوشمند انسان بنے- اِس دنیا میں بے خبری میں جینا گویا اندھیرے میں جینا ہے- جو لوگ بے خبری میں جیتے ہوں، وہ اندھے انسان قرار دیے جائیں گے- خواہ ان کے سر پر دو روشن آنکھیں موجود ہوں-
جس طرح درخت کی شاخیں ہوتی ہیں، اسی طرح انسانی زندگی میں بھی ہر واقعے کی شاخیں ہوتی ہیں- اگر آدمی واقعے کو جانے اور اُس کی شاخوں کو نہ جانے، تو ایسے آدمی کو جاننے والا نہیں کہاجائے گا- اُس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ وہ جانتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا، وہ دیکھتا ہے، مگر وہ نہیں دیکھتا- اُس کو خالق نے دماغ دیاہے، مگر وہ اپنے دماغ سے سوچتا نہیں- وہ ایک نامکمل انسان ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں ایک مکمل انسان-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔