انگریز شاعر لارڈ بائرن (وفات: 1824) ایک آزاد پسند شاعر تھا- اس نے غالباً پہلی بار منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح استعمال کی- اس کے بعد یہ اصطلاح کافی مقبول ہوئی- خود مسلم تحریکوں نے بھی، اس اصطلاح کو ایک پسندیدہ اصطلاح سمجھ کر اختیار کرلیا- مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر جگہ منفعل مزاحمت آخر کار متشددانہ مزاحمت میں تبدیل ہوگئی-
اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب انسان کا غیر مطمئن مزاج (non-stable nature) ہے- یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ ایک چیز کو اپنا نشانہ بنا کر اس کے لیے کوشش شر وع کرے تو وہ اپنے نشانہ کو پانے سے پہلے کبھی مطمئن نہیں ہوتا- خواہ اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو تباہ کرلے-
موجودہ زمانے کی مختلف جماعتوں نے سیاسی انقلاب کو اپنا نشانہ بنایا- ابتداءاً انھوںنے کہا کہ ہم اپنی تحریک کو پر امن انداز میں چلائیں گے- پھر جب پرامن طریقہ کار سے نشانہ حاصل نہیں ہوا تو انھوں نے منفعل مزاحمت (passive resistance) کی اصطلاح وضع کی، اور اس کے مطابق کام شروع کیا- پھر انھوں نے دیکھا کہ اِس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہورہا ہے، تو انھوں نے فعال مزاحمت (active resistance) کا طریقہ اختیار کیا- پھر انھوں نے دیکھا کہ اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیں ہورہا ہے تو انھوں نے متشددانہ عمل (violent activism) کا طریقہ اختیار کیا- پھر جب اس سے بھی ان کا نشانہ حاصل نہیںہوا تو وہ انتہا پسندی کی آخری حد تک پہنچ گئے اور مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری (suicide bombing) کرنے لگے، تاکہ اگر وہ دشمن کو مغلوب نہ کرسکیں تو کم ازکم اس کو غیر مستحکم (de-stabilise) کردیں-
کسی تحریک کا نشانہ صرف وہ ہوسکتا ہے جو مثبت نتیجہ تک پہنچے، نہ کہ منفی تباہ کاری تک- کسی تحریک یا اس کے طریقہ کار پر رائے قائم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کو نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔اس معاملے میں کسی اور چیز کو معیار قرار دینا درست نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔