سیرتِ رسول کی کتابوں میںایک واقعہ آتا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سفر میں مدینہ سے نکلے، درمیان میں معلوم ہوا کہ فریق مخالف کے ایک سردار ایک فوجی دستہ کے ساتھ مقابل سمت سے آرہے ہیں- آپ نے چاہا کہ دونوں گروہوں میں ٹکراؤ نہ ہو- چنانچہ آپ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من رجل یخرج بنا على طریق غیرطریقہم التی ہم بہا (ابن ہشام: 4/276) تم میں سے کون شخص ہے جو ہم کو ایک ایسے راستے سے لے جائے جو ان لوگوں کے راستے سے مختلف ہو- حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں ایسا کرسکتاہوں- چنانچہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اس بدلے ہوئے راستے سے آگے چلے گئے اور دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہیں آیا-
اس سے معلوم ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لئے راستہ بدلنا بھی ایک سنت ہے- مثلاً دو جلوس ایک ہی راستے پر آمنے سامنے سے آرہے ہوں تو رسول اللہ کی سنت پر چلنے والا وہ ہے، جو ٹکراؤ سے بچنے کے لئے اپنا راستہ (route) بدل دے-
اسی طرح اگر کسی جگہ دوگروہ ہوں، ان میں سے ایک گروہ سیاست کے راستے پر چل رہا ہوتو دوسرے گروہ کو چاہئے کہ وہ پر امن دعوت کے راستے پر چلے تاکہ دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ پیش نہ آئے- اسی طرح زندگی کے مختلف راستے ہیں، اور کام کرنے کے مختلف طریقے ہیں- جب بھی ایسا ہو کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں تو دونوں میں سے وہ گروہ پیغمبر کے نمونے پر قائم ہے، جو اپنے طریقے میں ایسی تبدیلی کرے، جس سے دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ کا امکان ختم ہوجائے- یہ راستہ بدلنے کی سنت ہے- یہ اجتماعی زندگی میں ٹکراؤ سے بچنے کافطری طریقہ ہے-اس سنت رسول کی حکمت یہ ہے کہ مقصد کی طرف سفر میں کوئی رکاوٹ واقع نہ ہو، اور کسی تاخیر کے بغیر اصل مقصد کی طرف سفر بدستور جاری رہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔