ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیر الأمور أوساطہا (شعب الإیمان للبیہقی، حدیث نمبر 5819) یعنی معاملات میں سب سے اچھا طریقہ، بیچ کا طریقہ ہے- اس حدیث میں امور سے مراد عملی معاملات ہیں، نہ کہ نظریاتی معاملات- جہاں تک نظریہ کی بات ہے، اس میں ہمیشہ توحد مطلوب ہوتا ہے، اور عملی معاملات میں تعدد کا طریقہ درست ہے-
نظریہ کا تعلق آدمی کے یقین سے ہوتاہے- نظریہ کے معاملہ میں ضروری ہے کہ آدمی اس کو یقین کے ساتھ اختیار کرے، اور یقین ہمیشہ اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب کہ آدمی کسی ایک بات کو واحد طور پر درست بات مانے- اگر آدمی کئی باتوں کو یکساں طورپر درست سمجھے، تو اس سے آدمی کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی، جب کہ سچائی کے ساتھ یقین ضروری ہے- لیکن عملی معاملات کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہوتا ہے- اجتماعی زندگی میں اگر توحد کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے ٹکراؤ پیداہوگا- اس لئے اجتماعی معاملات میں درست بات یہ ہے کہ مختلف لوگوں کے مزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے، کوئی ایسا درمیانی طریقہ اختیار کیا جائے، جس میں ٹکراؤ کے بغیر کام کیا جاسکتا ہو-
جہاں تک عبادت کےطریقے میں اختلاف کا معاملہ ہے، ان میں بھی تعدد کا طریقہ اختیار کیا جائے گا- کیونکہ اصحاب رسول کے یہاں طریقۂ عبادت میں فرق پایا جاتا تھا- اس فرق یا اختلاف کے معاملہ میں فقہاء نے ترجیح کا اصول اختیار کرکے، ایک طریقہ متعین کرنے کی کوشش کی- مگر یہ درست نہیں-
اس معاملہ میں درست بات یہ ہے کہ عبادت کے طریقوں میں صحابہ کے اختلاف کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے اور صحابہ سے ثابت شدہ ہر طریقہ کو یکساں طورپر درست مانا جائے- ہر ایک کو یہ اختیار ہو کہ وہ جس صحابی کے طریقہ کی چاہے پیروی کرے- جیساکہ حدیث میں آیا ہے : أصحابی کالنجوم فبأیہم اقتدیتم اہتدیتم (مشکاة المصابیح، حدیث نمبر6018)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔