خراسان کے مشہور عالم حدیث ابو القاسم ابراہیم النصر آبادی(وفات: 369ھ) نے حج کا قصد کیا تو ان کے شاگرد ابو عبد الرحمن السُلمی (وفات: 412) نے بھی ان کے ساتھ سفر حج پر جانے کا ارادہ کیا، اس وقت ان کی ماں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: توجہتَ إلى بیت اللہ، فلا یکتبن علیک حافظاک شیئاً، تستحی منہ غدا (سیر أعلام النبلاء: 17/249)یعنی تم نے بیت اللہ جانے کا قصد کیا ہے تو ہرگز ایسا نہ ہو کہ تمھارے دونوں محافظ فرشتے تمھارے بارے میں کوئی ایسی بات لکھیں، جس پر تم کوکل شرمندہ ہونا پڑے-
حج کی عبادت کے دوران آدمی بہت سے لوگوں کے درمیان ہوتا ہے، لوگوں سے ملنے جلنے کے دوران طرح طرح کے موافق وغیر موافق معاملات پیش آتے ہیں- اس لئے اس کا امکان رہتا ہے کہ حاجی سے اس طرح کی اخلاقی برائیاں سرزد ہوں جس کو قرآن میں فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ ۙوَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (البقرة: 199) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- ایسے موقع پر برائی سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے- وہ یہ کہ آدمی جو کچھ بولے، یا جو معاملہ کرے، وہ یہ سوچ کرکر ے کہ بظاہر اگرچہ جو کچھ وہ کررہا ہے، انسان کے ساتھ کررہا ہے، لیکن آخر کار اس کا سارا معاملہ اللہ کے سامنے پیش ہونے والا ہے-یہ سوچ آدمی کے اندر شدید قسم کی جواب دہی کا احساس پیدا کرے گی-
یہ معاملہ صرف سفر حج کا نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے، روز مرہ کی زندگی میں آدمی روزانہ دوسروں کے ساتھ ہوتا ہے- اس اجتماعی زندگی کے دوران کبھی وہ کچھ بولتا ہے، کبھی وہ کسی سے کچھ معاملہ کرتا ہے، اس دوران اس کو چاہئے کہ بظاہر اگر وہ انسان سے معاملہ کررہا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اس کے پورے قول وعمل کا ریکارڈ فرشتے تیار کررہے ہیں،اور یہ ریکارڈ آخر کار اللہ رب العالمین کے سامنے پیش ہونے والا ہے،جو آدمی اس سوچ کے ساتھ دنیا میں رہے اس کی پوری زندگی درست زندگی بن جائے گی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔