کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ قرآن ایک مقدس کتاب ہے- اس کو چھونے سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے- وضو کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں- قرآن کو چھونے یا اس کو ہاتھ میں لے کر پڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی وضو کرکے اپنے آپ کو پاک کرچکا ہو- لیکن یہ شرط بعد کے زمانے کی پیداوار ہے- دورِ اول میں یا قرآن اور حدیث میں نصّاً اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں-
جو لوگ یہ رائے رکھتے ہیں، وہ اپنے نقطۂ نظرکی تائید میں، قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: لَا یَمَسُّہُ إلَّا الْمُطَہَّرُوْنَ (56:79) یعنی قرآن کو نہیں چھوتے، مگر وہ لوگ جو کہ مطہَّر ہیں-
قرآن کی اس آیت کا تعلق مذکورہ مسئلے سے نہیں ہے- اس آیت میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے، جس سے یہ معلوم ہو کہ مصحف کو چھونے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے- قرآن کی اس آیت میں مطہَّر یا پاکیزہ (purified)سے مراد فرشتے ہیں- یعنی اس میں اس واقعے کا ذکر ہے، جس کا تعلق فرشتوں سے ہے- اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں جس مَسّ کا ذکر ہے اس سے مراد مسِّ مادی نہیں ہے، بلکہ مسِّ معنوی ہے۔
اس آیت کا سیاق بتاتا ہے کہ یہاں اُن فرشتوں کا ذکر ہے، جو قرآن کی وحی لے کر رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتے تھے، اور آپ کو قرآن پہنچاتے تھے- اس سے معلوم ہوا کہ فرشتے جس قرآن کی تنزیل کا ذریعہ بنتے تھے، وہ قرآن باعتبار معنی ہوتا تھا نہ کہ قرآن باعتبار مصحف-
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو چھونے کے لیے باوضو ہونے کی بحث کی بنا پر آیت کا اصل مقصود اوجھل ہوگیا ہے- اس آیت میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک عظیم کلام ہے- وہ ایک ایسی کتاب ہے جو اعلی معانی پر مشتمل ہے، وہ رب العالمین کے خصوصی اہتمام کے تحت پیغمبر آخر الزماں پر اتارا گیا ہے- انسان اگر اس کے معانی کی عظمت پر غور کرے تو وہ یہ ماننے پر مجبور ہوجائے گا کہ یہ اللہ کا کلام ہے نہ کہ کسی انسان کا کلام-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔