کہا جاتا ہے کہ ایک بوڑھی عورت ایک گاؤں میں رہتی تھی- اس کے یہاں ایک مرغا تھا جو اپنی عادت کے مطابق صبح کو بانگ دیتا تھا- بوڑھی عورت یہ سمجھتی تھی کہ گاؤں میں اس کے مرغ کی بانگ سے صبح ہوتی ہے- ایک بار وہ گاؤں والوں سے کسی بات پر غصہ ہوگئی- اس کے بعد اس نے اپنے مرغ کو لیا اور یہ کہتی ہوئی گاؤں سے نکل گئی کہ — اب دیکھیں یہاں کیسے صبح ہوتی ہے-
بظاہر یہ ایک کہانی ہے لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانوں کے عام مزاج کے مطابق ہے- یہ مزاج اتنا عام ہے کہ شاید کسی بھی شخص کا اس میں استثنا (exception) نہیں- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے، آپ کے چچا ابو طالب آپ پر ایمان نہیں لائے تھے مگر خاندانی تعلق کی بنا پر وہ آپ کا ساتھ دیتے تھے- آخر عمر میں کہا جانے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لئے آمادہ ہوگئے ہیں- یہ سن کر قریش کے سردار ابو طالب کے گھر پر جمع ہوئے اور ان کو عار دلایا کہ کیا آپ اپنے باپ عبد المطلب کے دین کوچھوڑ دیںگے- اِس طرح انھوں نے ابو طالب کو رسول اللہ پر ایمان لانے سے روک دیا- قریش کے سردار اپنے اس کارنامے کے بعد جب ابو طالب کے گھر سے واپس ہوئے تو ان کی نفسیات یہ تھی — اب دیکھیں محمد کا مشن کیسے جاری رہتا ہے- مگر تاریخ جانتی ہے کہ قریش کے سرداروں کا خیال کتنا زیادہ بے بنیاد ثابت ہوا-
اس طرح کے واقعات تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں اور اب بھی پیش آرہے ہیں- مگر اس قسم کے نادان لوگوں نے تاریخ کے تجربات سے کوئی سبق نہیں لیا- وہ اب بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ کوئی مشن اپنی داخلی طاقت (inner strength) کے زور پر چلتا ہے نہ کہ کسی انسان کے ساتھ دینے یا ساتھ نہ دینے پر-اس دنیا کو بنانے والے نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں نہ کسی کی موافقت سے کسی کا کام بنتا ہے، اور نہ کسی کی مخالفت سے کوئی کام بگڑتا ہے، جو کچھ ہوتا ہے وہ خالق کے مقرر منصوبے کے مطابق ہوتا ہے-موافقت یا مخالفت دونوں صرف ظاہری اسباب ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔