Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala july 2015
Al-Risala july 2015

ایک انقلابی اصول

Urdu · 1 min read

قرآن میں کلمۂ سوا (3:64)کا اصول بتایا گیا ہے۔کلمۂ سوا کا مطلب ہے اپنے اور مخاطب کے درمیان مشترک بنیاد (common ground) تلاش کر کے اپنی بات کہناتاکہ مخاطب کسی اجنبیت کے بغیر آپ کی بات سن سکے۔ کلمۂ سوا کا یہ اصول کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں کلمۂ سوا کے اصول کا انطباقی امکان(applicable scopes) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔اس کا خاص سبب موجودہ زمانے میں اوپین نیس کا مزاج (spirit of openness) ہے۔ آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ آپ لائبریری کلچر کو استعمال کر کے ہر جگہ اپنے لٹریچرکو مطالعے کی میز پر پہنچادیں، بک فیر کے رواج کو استعمال کر کے اپنی مطبوعات کو ہر شہر اور ہر ٹاؤن میں پہنچادیں، سیمینار اور کانفرنس میں شرکت کر کے ہر طبقے کے لوگوں تک اپنی پہنچ بڑھادیں، سیاحت کلچر کو استعمال کرکے اپنی بات کو عالمی دائرے میں پھیلادیں، تعلیمی اداروں کو استعمال کر کے نوجوانوں کو اپنے مقصد کے مطابق تربیت دیں، بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی کے نیٹ ورک کو اپنے خیالات کی اشاعت کا ذریعہ بنالیں، وغیرہ ۔

مگر ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کی ایک لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے اورجدید ذہن کے درمیان کلمۂ سوا کو دریافت کریں، اور پھر دانش مندانہ انداز میں اس کو استعمال کریں۔ جدید ذہن کی خاص صفت بے تعصبی ہے۔ جدید ذہن کے نزدیک طبقاتی سوچ (sectarian thinking) شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید ذہن کے مطابق موضوعی فکر (objective thinking) کی حیثیت معیاری فکر کی ہے۔ جدید ذہن امن پسند ذہن ہے، وہ نفرت اور تشدد کو ہر حال میں برا سمجھتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content