عمرو بن میمون التابعی (وفات: 74ھ) نے صحابہ کے بارے میں کہا: کان أصحاب محمد صلى اللہ علیہ وسلم أسرع الناس إفطارا وأبطأہ سحورا (مصنف عبد الرزاق: 7591)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب افطار میں بہت جلدی کرنے والے لوگ تھے، اور وہ سحری میں بہت دیر کرنے والے لوگ تھے۔
تابعی کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ وقت سے پہلے افطار کر لیتے تھے، یا وہ سحری میں وقت ختم ہونے کے بعد بھی کھاتے رہتے تھے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ صحابہ تکلف سے بَری تھے۔ ان کے اندر زندہ دین داری تھی، نہ کہ روایتی دین داری۔ روایتی دین داری کا مزاج ظواہر میں احتیاط اور مبالغہ کا مزاج ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس، جن لوگوں کے اندر زندہ دین داری ہو، ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسپرٹ کو اصل سمجھا جائے، نہ کہ فارم کو۔ چناں چہ وہ وقت آتے ہی فورا افطار کرلیتے ہیں، وہ احتیاط کے نام پر پانچ منٹ کا اضافہ نہیںکرتے۔ ا ن کا یہی حال سحری اور دوسرے معاملات میں بھی ہوتا ہے۔
امت پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ اس کے افراد دین کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ دورِ زوال میں جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ امت کےافرادمیں دین کی اسپرٹ ختم ہوجاتی ہے۔ البتہ دین کے نام پر کچھ ظواہر باقی رہتے ہیں۔ دین کی حقیقت موجود نہیں ہوتی لیکن دین کا فارم (form) ان کے یہاں موجود رہتا ہے۔
انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اہم سمجھے اس میں زیادہ سے زیادہ اعتناء کرے۔ جب امت زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد دین کی اسپرٹ کے معاملے میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں، وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ ان کی دینی اسپرٹ میں کمی تو نہیں ہوگئی، اگر وہ اپنی زندگی میں کوئی ایسی چیز دیکھتے ہیں، جو اسپرٹ کے مطابق نہ ہو تو اس پر وہ تڑپ اٹھتے ہیں، اور فورا اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے برعکس دورِ زوال میں یہ حال ہوتا ہے کہ امت کے افراد ظواہر میں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔