Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala july 2015
Al-Risala july 2015

موت کا ذکر کثیر

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثروا ذکر ہادم اللذات، یعنی الموت (ابن ماجہ، حدیث نمبر: 4258)یعنی موت کو بہت زیادہ یادکرو، جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندر دنیا رخی سوچ کو منہدم کردیتی ہے اور اُس کے اندر آخرت رخی سوچ پیدا کردیتی ہے- اگر آدمی بار بار موت کو یاد کرے، تو اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا پسند انسان کے بجائے آخرت پسند انسان بن جائے گا-

اِس حدیث میں لذت کا لفظ اُن تمام چیزوں کے لیے ہے جوآدمی کے لیے کسی چیز کو مرکز توجہ بناتی ہے- اِس لحاظ سے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اِس حقیقت کو بہت زیادہ یاد کرے کہ وہ اِس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ سو سال سے بھی کم مدت میں مرجائے گا تو اُس کا مرکز توجہ بدل جائے گا- وہ اُس دنیا کو زیادہ سے زیادہ اہم سمجھے گا جو موت کے بعد آنے والی ہے، نہ کہ اُس دنیا کو جس میں موت سے پہلے عارضی طورپر زندگی گزار رہاہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ طرز فکر آدمی کے اندر ایک انقلاب پیدا کردے گا- اُس کی سوچ بدل جائے گی، اُس کا سلوک بدل جائے گا، اُس کے لین دین کا طریقہ بدل جائے گا، اُس کی اخلاقی روش بدل جائے گی، اُس کے روزوشب بدل جائیں گے- یہی مطلب ہے لذتوں کو ڈھانے کا-

حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے اندازِ فکر کو پوری طرح بدل دیتی ہے- جس چیز کو آج کل ’’یہیں اور ابھی‘‘ (right here, right now) کہاجاتا ہے، وہ صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ انسان موت سے غافل ہو- اگر اُس کو موت کی حقیقت کا زندہ شعور ہوجائے تو وہ کبھی اِس قسم کا فارمولا نہ اپنائے- موت کے ہادم اللذات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ موت آدمی کی زندگی کے رخ کو مکمل طورپر بدل دیتی ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content