امام ابو حنیفہ (وفات 150 ھ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا، میں نے قسم کھائی ہے کہ میںاپنی بیوی سے کلام نہ کروں گا یہاں تک کہ وہ مجھ سے کلام کرے، اور میری بیوی نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ مجھ سے بات نہ کرے گی، یہاں تک کہ میں اس سے بات کروں- امام صاحب نے جواب دیا تم دونوں میں سے کوئی بھی حانث نہیں-
سفیان ثوری (وفات: 161ھ) نے جب یہ جواب سنا تو ناراضگی کا اظہار فرمایا اور امام اعظم کے پاس پہنچے اور کہا آپ نے یہ جواب کیسے دے دیا- امام ابو ابو حنیفہ نے فرمایا کہ مرد کے قسم کھانے کے بعد جب عورت نے مرد سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں تم سے بات نہ کروں گی جب تک کہ تم مجھ سے بات نہ کرو تو مرد کی قسم تمام ہوگئی، اور مرد اس سے بات کرے گا تو حانث نہ ہوگا، اور مرد جب اس سے بات کرلے گا تو عورت کی قسم تمام ہوجائے گی، پھر عورت بھی حانث نہ ہوگی-
امام ابو حنیفہ (اور دوسرے ائمہ فقہ) کی اس قسم کی باتوں کو اجتہاد سمجھا جاتا ہے- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جزئی مسائل میں فتوی دینےکا واقعہ ہے- اجتہاد زیادہ بڑے بڑے شرعی امور میں دین کا موقف بتانے کا نام ہے، نہ کہ جزئی نوعیت کے مسائل میں فقہی مسئلہ بتانے کا نام-
اس قسم کے جزئی امور پر فتوی دینے والوں کو مجتہد بلکہ مجتہد مطلق سمجھ لیا گیا - یہ بلا شبہہ اجتہاد کا کمتر اندازہ (underestimation) تھا- یہی وہ چیز ہے جس نے امت سے حقیقی اجتہاد کا خاتمہ کردیا- یہ کہنا درست نہیں کہ بعد کے زمانے میں اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا- صحیح بات یہ ہے کہ اجتہاد کے غلط تصور کی بنا پر اجتہاد کا ذہن ختم ہوگیا، اسی کوتاہی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بڑے بڑے مسائل پیش آئے جو اجتہاد کا تقاضا کرتے تھے لیکن علماء اس سے عاجز ثابت ہوئے کہ وہ ان امور میں اجتہاد کرکے امت کو صحیح رہنمائی دیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔