پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کےمعمول کے بارے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: کان النبی صلى اللہ علیہ وسلم یذْکُر اللہ على کل أحیانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 305، صحیح مسلم، حدیث نمبر 373) یہ روایت اہل ایمان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کو بتاتی ہے۔ اہل ایمان کو ذہنی اعتبار سے ایک بیدار ذہن (awakened mind)بننا چاہئے۔ ان کی ربانی سوچ کواتنی زیادہ ارتقا یافتہ ہونی چاہئے کہ ان کی زندگی کا ہر واقعہ یا ہر تجربہ ان کے لئے ذکر اور دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے۔
اس روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دعا اور ذکر کے کچھ کلمات رٹ لے، اور ہر موقع پر ان کو زبان سے دہراتا رہے۔ یہ سنت رسول نہیں ہے۔ سنت رسول کے مطابق ذکر اور دعاایک تکراری عمل نہیں ہے، بلکہ وہ ایک تخلیقی (creative) عمل ہے۔
دسمبر 2014 میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا، اس کی وجہ سےمجھ کو تقریبا دس دن بستر پر رہنا پڑا۔ اس مدت میں میں اپنی نمازوں کے لئے وضو نہ کر سکا، بلکہ تیمم کر کے نماز ادا کرتا رہا۔اس معاملے پر غور کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میری یہ نمازیں شاید ناقص نمازیں ہیں، میرا دل بھر آیا۔ اس وقت مجھے ایک عربی مقولہ یاد آیا: العذر عند کرام الناس مقبول (عذر کریم لوگوں کے لئے قابل قبول ہوتا ہے)۔ میں نے کہا کہ یا اللہ، تیرے کریم بندوں کے لئے جو عذر قابل قبول ہوتا ہے، وہ یقینا تیرے لئے مزید اضافہ کے ساتھ قابل قبول ہوگا۔ اس وقت یہ جملہ میری زبان سے نکلا: العذر عند اللہ الکریم مقبول۔ یہ سوچ کر مجھے اللہ کی رحمت یاد آئی، میرا دل اطمینان سے بھر گیا، یہی ہے ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرنا۔ہر موقع پر اللہ کو یادکرنا یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا بیدار ہو کہ ہر واقعہ اس کے لیے ایک ایسا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference ) بن جائے، جس کے ذریعے وہ اپنے رب کو یاد کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔