قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ عاجز انسان کی دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: أَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ (النمل: 62)- عاجز انسان خدا کی خصوصی نصرت کا مستحق بن جاتا ہے- سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عاجز انسان کی دعا کی قبولیت کا راز کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اس وقت معلوم ہوتا ہے جب کہ عاجز انسان کی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے-
جب ایک شخص عاجز (helpless) ہوجائے تو اس وقت اس کے اندر مخصوص کیفیات پیدا ہوتی ہیں، جو عام حالات میں کسی کے اندرپیدا نہیں ہوتیں- اس وقت اس کی داخلی روح (inner soul) آخری حد تک جاگ اٹھتی ہے- اس نفسیاتی حالت کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت آدمی کی زبان پر دعا کے جو کلمات جاری ہوجاتے ہیں، وہ عام قسم کے کلمات نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایسے کلمات ہوتے ہیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں- یہی خاص سبب ہے، جس کی بنا پر ایک عاجز انسان کی دعا اللہ کے یہاں قابل قبول قرار پاتی ہے-
قرآن میں اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مصر کے بادشاہ فرعون نے جب اپنی بیوی آسیہ کے قتل کا حکم دیا تو ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنادے- یہ ایک بے حد خاص دعا ہے، جو آسیہ کی زبان سے اس وقت نکلی، جب ان کو محسوس ہوا کہ وہ بے بسی کی آخری حد تک پہنچ چکی ہیں- اس کامل بے بسی کی حالت میں ان کی روح کے اندر جو اعلی ربانی کیفیت پیدا ہوئی، اُس نے اِس مخصوص دعا کی صورت اختیار کرلی- دعا بظاہر الفاظ کی صورت میں ہوتی ہے، لیکن دعا کا گہرا تعلق دعا کرنے والے کی کیفیت سے ہے- یہ دراصل کیفیت ہے جو کسی کی دعا کو اسم اعظم کی دعا بنا دیتی ہے، اور کیفیت حالات کے بغیر پیدا نہیں ہوتی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔