Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala july 2015
Al-Risala july 2015

جنت کیا ہے

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ فصلت میں جنت کی صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ (41:31) یعنی فرشتے اہل جنت سے کہیں گے: اور تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کروگے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہر اعتبار سے ایک کامل جگہ ہوگی- جنت میں کمی یا نقص کا کوئی پہلو موجود نہ ہوگا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں اہلِ جنت کی نسبت سے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ایک اشتہا اور دوسرا طلب- اشتہا کا لفظ عمومی انسانی خواہش کو بتاتا ہے، یعنی عمومی معنوں میں لوگ جن چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں، وہ سب وہاں موجود ہوں گی-

طلب کے لفظ میں انفرادی ذوق کی طرف اشارہ کیاگیا ہے- یعنی جنت میں وہ تمام چیزیں بھی ہوں گی، جو عمومی طورپر لوگوں کی پسند کی ہوتی ہیں- اس کے علاوہ جنت میں ہر فرد کے ذاتی ذوق کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہوگا-

قرآن کے اس بیان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے افراد تخلیقی ذہن (creative mind) رکھنے والے لوگ ہوں گے- عمومی پسند کے علاوہ ان میں سے ہر فرد کی اپنی ذاتی پسندبھی ہوگی- جنت میں اجتماعی پسند کا سامان بھی ہوگا، اور انفرادی پسند کا سامان بھی- جنت کی یہ صفت، جنت کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گویا کہ جنت کا معاشرہ یکساں قسم کے درختوں کی مانند نہیں ہوگا- بلکہ وہ متنوع قسم کے درختوں کے ایک باغ کی مانند ہوگا- جنت میں یکسانیت (uniformity)کے ساتھ تنوع (diversity) بھی ہوگا- جنت کی یہ صفت جنت کو بہت زیادہ خوبصورت اور بہت زیادہ با معنی بنادے گی- جنت لذتوں کا مقام بھی ہوگا، اور تنوعات کا مقام بھی-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content