قرآن کی سورہ فصلت میں جنت کی صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ (41:31) یعنی فرشتے اہل جنت سے کہیں گے: اور تمھارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کو تمھارا دل چاہے اور تمھارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کروگے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت ہر اعتبار سے ایک کامل جگہ ہوگی- جنت میں کمی یا نقص کا کوئی پہلو موجود نہ ہوگا-
قرآن کی اس آیت میں اہلِ جنت کی نسبت سے دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ایک اشتہا اور دوسرا طلب- اشتہا کا لفظ عمومی انسانی خواہش کو بتاتا ہے، یعنی عمومی معنوں میں لوگ جن چیزوں کی خواہش رکھتے ہیں، وہ سب وہاں موجود ہوں گی-
طلب کے لفظ میں انفرادی ذوق کی طرف اشارہ کیاگیا ہے- یعنی جنت میں وہ تمام چیزیں بھی ہوں گی، جو عمومی طورپر لوگوں کی پسند کی ہوتی ہیں- اس کے علاوہ جنت میں ہر فرد کے ذاتی ذوق کی تکمیل کا سامان بھی موجود ہوگا-
قرآن کے اس بیان میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے افراد تخلیقی ذہن (creative mind) رکھنے والے لوگ ہوں گے- عمومی پسند کے علاوہ ان میں سے ہر فرد کی اپنی ذاتی پسندبھی ہوگی- جنت میں اجتماعی پسند کا سامان بھی ہوگا، اور انفرادی پسند کا سامان بھی- جنت کی یہ صفت، جنت کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے-
گویا کہ جنت کا معاشرہ یکساں قسم کے درختوں کی مانند نہیں ہوگا- بلکہ وہ متنوع قسم کے درختوں کے ایک باغ کی مانند ہوگا- جنت میں یکسانیت (uniformity)کے ساتھ تنوع (diversity) بھی ہوگا- جنت کی یہ صفت جنت کو بہت زیادہ خوبصورت اور بہت زیادہ با معنی بنادے گی- جنت لذتوں کا مقام بھی ہوگا، اور تنوعات کا مقام بھی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔