عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسٹریس (stress) ایک برائی (evil) ہے- وہ انسان کی قوتِ کارکردگی کو گھٹا دینے والا ہے، وہ انسان کو ذہنی سکون سے محروم کردیتا ہے، حتی کہ اسٹریس ایک ایسی برائی ہے جو آدمی کی عمر کو کم کردینے والی ہے- اِس تصور کے تحت ساری دنیا میں ایک نئی انڈسٹری کھل گئی ہے- اِس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing)کہاجاتا ہے-
مگر حال میں امریکا میں اِس موضوع پر ایک رسرچ ہوئی ہے- اِس سے ثابت ہوا ہے کہ اسٹریس کوئی برائی نہیں ہے، بلکہ اسٹریس کسی انسان کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے:
Stress primes the brain for improved performance and optimal alertness.
دنیا میں مختلف قسم کے مسائل ہیں- یہی مسائل انسان کے لیے اسٹریس یا ٹنشن کا ذریعہ بنتے ہیں- فلاسفہ نے اِن مسائل کو لے کر ایک نظریہ بنایا جس کو وہ پرابلم آف اِول (problem of evil) کہتے ہیں- ان کے نزدیک، یہ مسائل (problems)اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اِس دنیا کا کوئی خالق نہیں، اگر اِس دنیا کا کوئی خالق ہوتا تو وہ دنیا کو پرفکٹ انداز میں بناتا اور پھر ہم کو رہنے کے لیے ایک پرابلم فری دنیا مل جاتی- مگر تحقیقات نے بتایا کہ دنیا میں مسائل کا ہونا ایک نعمت ہے، کیوں کہ یہی مسائل ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتے ہیں، یہی مسائل دماغ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو انفولڈ کرتے ہیں-
Being overworked and stressed may have a positive side, say scientists who found short-lived stress primes the brain for improved performance and optimal alertness. Researchers from University of California, Berkeley uncovered exactly how acute stress, — short-lived, not chronic, — primes the brain for improved performance. “You always think about stress as a really bad thing, but it’s not. Some amounts of stress are good to push you just to the level of optimal alertness, behavioural and cognitive performance,” said Daniela Kaufer, associate professor of integrative biology at the UC Berkeley. (The Times of India, New Delhi, April 18, 2013, p. 19)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔