11 مئی 2013 کو پاکستان میں جنرل الیکشن ہوا- ا س الیکشن میں خاص طورپر دولیڈروں کے درمیان مقابلہ تھا— مسلم لیگ کے نواز شریف اور انصاف پارٹی کے عمران خان- عمران خان نے الیکشن سے پہلے 9مئی 2013 کو اپنے ایک بیان میں کہا تھاکہ پاکستان میں تبدیلی آنا ضروری ہے اور پاکستان میں تبدیلی لانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ سیاست کا طریقہ ہے:
There should be change in Pakistan and there was no other way to bring change in Pakistan but politics.
الیکشن ہوا تو نواز شریف کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی اور عمران خان کو اسمبلی میں بہت کم سیٹ ملی- اِس کے بعد عمران خان نے دوسرا بیان (16 مئی 2013) یہ دیا کہ الیکشن میں بہت زیادہ دھاندھلی (rigging) ہوئی ہےاور ان کی پارٹی اس کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک چلائے گی:
Imran Khan has given a three day ultimatum to the Election Commission of Pakistan (ECP) to probe rigging in the genereal elections, otherwise his party would lauch protests across the country against the ECP.
بعد کی خبروں سے معلوم ہواکہ انصاف پارٹی اور جماعت اسلامی نے مل کر پاکستان میں احتجاجی مہم شروع کردی- اُن کا نعرہ یہ تھا کہ الیکشن میں جو پارٹی کامیاب ہوئی ہے، اس کو منتخب پارٹی نہیں کہا جاسکتا ، کیوں کہ اس نے یہ کامیابی دھاندلی کے ذریعے حاصل کی ہے-
یہ طریقہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے والاہے- صحیح طریقہ ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں کامیاب ہوئی ہے، اس کو مقررہ مدت تک کام کرنے کا موقع دیاجائے اور دوسری پارٹیاں تعلیم ا ور دعوت جیسے غیرسیاسی میدانوں میں پر امن جدوجہد شروع کردیں- یہی تعمیر ِ ملک کا واحد طریقہ ہے-
نوٹ: مذکورہ موضوع پر مولانا وحید الدین خاں کا تفصیلی خطاب سننے کے لئے ملاحظہ ہو:
(http://cpsglobal.org/content/politics-and-nation-building-i-may-19-2013)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔